سائلین کوانصاف کی تیزترفراہمی اورزیرالتوا مقدما ت نمٹانے کی رفتار تسلی بخش ہے،

انصاف کی فراہمی کیلئے سپریم کورٹ کے جج صاحبان لگن اورجذبہ کے ساتھ کام کررہے ہیں جو قابل تعریف ہے انصاف کی فراہمی کے اس عمل کومذید بہترکرنے کیلئے ان تھک کوششوں اورمحنت کی ضرورت ہے چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں فل کورٹ اجلاس

جمعرات دسمبر 22:55

سائلین کوانصاف کی تیزترفراہمی اورزیرالتوا مقدما ت نمٹانے کی رفتار ..
اسلام آباد ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 12 دسمبر2019ء) فل کورٹ نے سائلین کوانصاف کی تیزترفراہمی اورزیرالتوا مقدما ت کونمٹانے کی رفتار کوتسلی بخش قراردیتے ہوئے کہا ہے کہ انصاف کی فراہمی کیلئے سپریم کورٹ کے جج صاحبان لگن اورجذبہ کے ساتھ کام کررہے ہیں جو قابل تعریف ہے انصاف کی فراہمی کے اس عمل کومذید بہترکرنے کیلئے ان تھک کوششوں اورمحنت کی ضرورت ہے جمعرات کوچیف جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں فل کورٹ اجلاس ہوا جس میں سپریم کورٹ کے جج صاحبان نے شرکت کی، اجلاس کے دوران چیف جسٹس نے سپریم کورٹ کے نئے جج جسٹس امین الدین کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ ان کی سپریم کورٹ آمد ادارے کیلئے باعث تقویت ثابت ہو نے کے ساتھ عوام کو انصاف کی فراہمی کاعمل بہتر ہوگا۔

چیف جسٹس نے اجلاس کے شرکاء کو بتایا کہ اجلاس کا بنیادی مقصد سپریم کورٹ کی بطور ادارے کی کارکردگی جائزہ لینا، عوام کو انصاف کی فراہمی اور زیر التواء مقدمات کو نمٹانے کا جائزہ لینا تھا۔

(جاری ہے)

چیف جسٹس نے اجلاس کوبتایا کہ سپریم کورٹ نے 27 اپریل 2019ء سے 20 نومبر 2019ء تک 7718 کیس نمٹائے ہیں جبکہ اس دوران 9485 نئے کیسز سپریم کورٹ میں دائر ہوئے ہیںجبکہ اس وقت سپریم کورٹ میں کل 41 ہزار 105 مقدمات زیر التوا ہیں۔

اسی مدت کے دوران لارجر بینچ بھی تشکیل دیئے گئے جن میں خصوصی اہمیت کے حامل مقدمات کی سماعت کی گئی فل کورٹ کوبتایا گیا مجموعی طورپر نمٹائے گئے کیسوں کی تعداد بھی اطمینان بخش رہی ہے۔ فل کورٹ نے ادارے کی کارکردگی اور مقدمات کو نمٹانے کی شرح کو تسلی بخش قرار دیتے ہوئے اوربہتری کے حوالے سے مختلف امور پر غور وحوض کیا تاکہ ادارے کی کارکردگی کو مزید فعال اور موثر بنایا جا سکے۔

فل کورٹ نے انصاف کی فراہمی کے لئے انتھک کوششوں اور محنت پرزور دیا اجلاس میںمیں نامزد چیف جسٹس گلزار احمد، جسٹس مشیر عالم، جسٹس عمر عطاء بندیال، جسٹس قاضی فائز عیسیٰ، جسٹس مقبول باقر، جسٹس منظور احمد ملک، جسٹس سردار طارق مسعود، جسٹس فیصل عرب، جسٹس اعجاز الاحسن، جسٹس مظہر عالم میاں خیل، جسٹس سجاد علی شاہ، جسٹس سید منصور علی شاہ، جسٹس منیب اختر، جسٹس یحییٰ آفریدی، جسٹس امین الدین خان اور رجسٹرار سپریم کورٹ ارباب محمد عارف نے شرکت کی۔