دائود انجینئرنگ یونیورسٹی کا ساتواں جلسہ تقسیم اسناد

معیاری تعلیم ہی ادارے کی پہچان ہے، ڈاکٹر فیض اللہ عباسی نے یونیورسٹی کو جھگڑوں سے نکال کر ماحول بہتر کیا، نثار کھوڑو

منگل جنوری 21:09

کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 14 جنوری2020ء) دائود یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی کا ساتواں جلسہ تقسیم اسناد منگل 14 جنوری 2020ء کو جامعہ دائود کے جناح کیمپس کے سبزہ زار میں منعقد کیا گیا۔ جلسہ تقسیم اسناد کی صدارت مشیر تعلیم و پرو چانسلر جناب نثار احمد کھوڑو نے کی۔ دائود انجینئرنگ یونیورسٹی میں شعبہ انجینئرنگ کے Batch-16اور شعبہ آرکٹیکٹ کے Batch-15 کے 260 طلبہ و طالبات نے گریجویشن مکمل کی اور انہیں کانوکیشن میں ڈگریاں تفویض کی گئیں جبکہ امتیازی نمبر حاصل کرنیوالوں کو گولڈ اور سلور کے تمغے دیئے گئے۔

جلسہ تقسیم اسناد میں دائود انجینئرنگ یونیورسٹی میںنئی تاریخ رقم ہوئی اور ماسٹرز آف انجینئرنگ کی ڈگری لینے والے پہلے بیچ نے بھی پاس آئوٹ کیا۔

(جاری ہے)

دائود یونیورسٹی کے شعبہ انرجی اینڈ انوائرمنٹ انجینئرنگ کی طالبہ رابعہ سعید ولد عبدالسعید نے یونیورسٹی میںنٹاپ پوزیشن حاصل کرتے ہوئے گولڈ میڈل حاصل کیا جبکہ انجینئرنگ فیکلٹی میں بھی رابعہ سعید نے پہلی پوزیشن حاصل کی ، آرکیٹیکٹ فیکلٹی میں ثناء اختر ولد اختر علی نے پہلی پوزیشن اور گولڈ میڈل حاصل کیا۔

یونیورسٹی کے تمام 9 شعبوں میں پہلی پوزیشن حاصل کرنیوالے 9 طلباء کو سلور میڈل سے نوازا گیا جس میں ثناء اختر ولد اختر علی (شعبہ آرکیٹک)، عبدالمعید صدیقی ولد عبدالمجید صدیقی (شعبہ کیمیکل انجینئرنگ) ،طیبہ ولد ثناء اللہ (شعبہ کمپیوٹر سسٹم انجینئرنگ) ، محمد شہریار علی ولد عبدالصمد (شعبہ الیکٹرونک انجینئرنگ) ، رابعہ سعید ولد عبدالسعید (انرجی انوائرمنٹ انجینئرنگ)، عماد سرور ولد غلام سرور پٹھان (انڈسٹریل انجینئرنگ) ، سلمان محمدی ولد اختر محمدی (میٹرلرجی اینڈمیٹریل انجینئرنگ) ،فرقان علوی ولد سرفراز احمد علوی (شعبہ پٹرولیم گیس انجینئرنگ)، عریبہ تحسین ولد مختار احمد (شعبہ ٹیلی کمیونیکشن انجینئرنگ) شامل ہیں۔

کانووکیشن میںنوائس چانسلر دائود انجینئرنگ یونیورسٹی پروفیسر ڈاکٹر فیض اللہ عباسی نے معزز پرو چانسلر اور مشیر تعلیم نثار احمد کھوڑو کو خوش آمدید کہا اور جلسہ تقسیم اسناد سے خطاب میں کرتے ہوئے کہا کہ دائود کالج کو یونیورسٹی کا درجہ ملنے کے بعد پہلے وائس چانسلر کی حیثیت سے جامعہ کا چارج سنبھالا اور اب یونیورسٹی ایک بہترین تعلیمی ادارے میں تبدیل ہوچکی ہے جہاں صبح اور شام میںباقاعدگی سے کلاسز کا انعقاد ہماری کامیابی کی ترجمانی کررہا ہے ، گزشتہ سات برس میں دائود یونیورسٹی نے تیزی سے ترقی کی اور نصابی و غیر نصابی سرگرمیاں اپنے عروج پر رہیں، سات سال کے عرصے میںترقی اور استحکام توجہ کا مرکز رہی ، ہم نے گرتے ہوئے ادارے کو ترقی کی راہ پر ڈال دیا ہے۔

انہوںنے کہا کہ یونیورسٹی کا درجہ ملنے کے ساتویںسال میں ساتواں کانووکیشن منعقد کرکے دائود یونیورسٹی نے ثابت کیا کہ وہ انجینئر اور آرکیٹکٹ پیدا کرکے معاشرے کی تعمیر و ترقی میں اپنا حصہ ڈال رہی ہے، ہم نے تاریخ رقم کرتے ہوئے ماسٹرز ڈگری کا اجراء شروع کیا اور آج پہلا بیج پاس آئوٹ ہوا جبکہ 191 طلباء ماسٹرز پروگرام اور 25پی ایچ ڈی کے اسٹوڈنٹس انرول ہیں۔

انہوں نے کہا کہ میںتہہ دل سے مشیر تعلیم و پرو چانسلر نثار احمد کھوڑو کا شکرگزار ہوں جو دائود یونیورسٹی تشریف لائے۔ طلباء سے خطاب کرتے ہوئے پرو چانسلر نثار احمد کھوڑو نے کہا کہ سندھ حکومت کی توجہ اعلیٰ تعلیم پر رہی ہے ، ہم خود کو بہتر کرنے میں مصروف ہیں، ہائیر ایجوکیشن میںکوئی کمی چھوڑنا نہیں چاہتے ، معیاری تعلیم ہی دنیا میں پاکستان کا نام روشن کرے گی اور دائود یونیورسٹی کا معیار تعلیم ہی اس کی پہچان بن گیا ہے ، ڈاکٹر فیض اللہ عباسی نے یونیورسٹی کو جھگڑوں سے نکال کر ماحول بہتر کیا ، سندھ حکومت دائود انجینئرنگ یونیورسٹی کو سہولتیں فراہم کرتی رہے گی۔

اس موقع پر پرو وائس چانسلر ڈاکٹر پیر روشن دین شاہ راشدی ، ڈین فیکلٹی آف انجینئرنگ ڈاکٹر عبدالوحید بھٹو ، اکیڈمک کوآرڈینٹر ڈاکٹر دوست علی خواجہ ، رجسٹرار ڈاکٹر سید آصف علی شاہ ، کنٹرولر راشد حسین ابڑو، سینیٹ اور سینڈیکٹ کے ارکان ، تمام شعبوں کے چیئر پرسنز ، طلباء اور والدین کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔