بھارتی مسلمانوں کو بھڑکانے والے طارق فتح کا مکروح چہرہ بے نقاب

شہری قانون کے خلاف مظاہرے کرنے والے مسلمانوں کے خلاف ایک ویڈیو ٹویٹ کی جو کہ تین سال پرانی نکلی

Usama Ch اسامہ چوہدری منگل جنوری 23:56

بھارتی مسلمانوں کو بھڑکانے والے طارق فتح کا مکروح چہرہ بے نقاب
نئی دہلی (اردو پوائنٹ اخبار تازہ ترتین 28 جنوری 2020) : بھارتی مسلمانوں کو بھڑکانے والے طارق فتح کا مکروح چہرہ بے نقاب، شہری قانون کے خلاف مظاہرے کرنے والے مسلمانوں کے خلاف ایک ویڈیو ٹویٹ کی جو کہ تین سال پرانی نکلی تفصیلات کے مطابق سوشل میڈیا پر ایک ممتاز مصنف طارق فتح ایک سرگرم ٹویٹر صارف ہیں جن کے 6 لاکھ سے زیادہ فالورز ہیں لیکن متعدد مواقع پر پاکستانی کینیڈا کے مصنف کو ہندوستانی مسلمانوں کو نشانہ بناتے اورغلط معلومات شائع کرتے ہوئے پایا گیا ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ طارق فتح کے گمراہ کن ٹویٹس کو ہندوستان کے مسلمانوں نے بے نقاب کردیا۔ تازہ ترین ٹویٹس میں انھوں نے اس بات کو یقینی بنانے کے لئے ایک اضافی کوشش کی کہ اس کے پیروکار گمراہ رہیں۔ انھوں نے برقع پوش خواتین کی ایک ویڈیو ٹویٹ کی جو کہ بالی وڈ کے ایک گانے پر ڈانس کرہی تھیں۔

(جاری ہے)

انہوں نے پوچھا کہ کیا کوئی اس بات کی تصدیق کرسکتا ہے کہ یہ ویڈیو شاہین باغ میں مظاہرین کی ہے یا نہیں؟ ویڈیو میں اس بات کے کافی شواہد موجود تھے جس کی وجہ سے شاہین باغ میں شہریت ترمیمی قانون کے خلاف مظاہرے کو نقصان پہنچ سکتا تھا۔

اس ویڈیو میں برقع پوش خواتین ایک دلہن کے گرد رقص کررہی ہیں۔ اس ویڈیو کے بارے میں پتہ کیا گیا تو معلوم ہوا کہ یہ ویڈیو تین سال پرانی ہے جسکو طارق فاتح نے اس سے قبل بھی ٹویٹ کیا تھا۔ انھوں نے اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ کو غیر فعال کیا تھا اور اسکے بعد اسکو دوبارہ چلا کر یہ ویڈیو شائع کی گئی تھی۔ دوسری طرف بھارتی سپریم کورٹ نے 2002 میں بھارتی ریاست گجرات میں مسلمانوں کے قتل عام میں ملوث 17 مجرموں کو ضمانت پر رہا کرنے اور انہیں نوکریاں فراہم کرنے کا حکم دیا ہے تاہم مجرمان کے گجرات میں داخلے پر بھی پابندی ہوگی.منگل کے روز سماعت کے دوران بھارت کی سپریم کورٹ نے 17 مجرموں کو دو گروپوں میں تقسیم کر کے گجرات سے دور دراز کے علاقوں میں بھیجنے کا حکم دیا ہے ایک گروپ کو مدھیہ پردیش کے شہر اندور جب کہ دوسرے کو گجرات سے 500 کلو میٹر دور جبال پورہ میں رکھنے کا حکم سنایا گیا ہے عدالت نے متعلقہ شہروں کی انتظامیہ کو حکم دیا ہے کہ ان مجرموں کو سماجی اور عوامی خدمات کے اداروں میں کام پر رکھا جائے تاکہ یہ لوگ وہاں گزر بسر کر سکیں.ان افراد پر یہ الزام ثابت ہو گیا تھا کہ انہوں نے 2002 میں فسادات کے دوران 33 مسلمانوں کو زندہ جلا کر ہلاک کر دیا تھا جن میں 22 خواتین بھی شامل تھیں. سپریم کورٹ نے اپنے حکم میں مزید کہا کہ تمام مجرم سماجی کاموں کے دوران ہفتہ وار متعلقہ تھانوں میں رپورٹ بھی کریں گے عدالت نے جلال پور اور اندرو کی انتظامیہ کو بھی ہدایت کی کہ وہ مجرموں پر نظر رکھیں.یاد رہے کہ بھارتی ریاست گجرات میں فروری 2002 میں ہندو، مسلم فسادات پھوٹ پڑے تھے ان کا آغاز اس وقت ہوا تھا جب گجرات کے قصبے گودھرا کے ریلوے اسٹیشن پر کھڑی ایکسپریس ٹرین کی بوگی کو آگ لگا دی گئی تھی جس کے نتیجے میں 59 ہندو سیوک ہلاک ہو گئے تھے جبکہ اس حادثے میں درجنوں پاکستانی شہری بھی ٹرین میں زندہ جل گئے تھے تحقیقات کے بعد یہ سامنے آیا تھا کہ آرایس ایس سے تعلق رکھنے والے ایک اعلی سیکورٹی اہلکار کی زیرنگرانی آرایس ایس نے ٹرین کو آگ لگا کر فسادات بھڑکانے کا منصوبہ تشکیل دیا گیا تھا.واقعے کے بعد گجرات میں بلوائیوں نے بڑے پیمانے پر حملے کیے تھے اور احمد آباد شہر سمیت نواحی قصبوں میں مسلمانوں پر حملوں کے واقعات بھی ر ونما ہوئے تھے جن میں سینکڑوں افراد ہلاک ہو گئے تھی.فسادات کے بعد 76 افراد کو گرفتار کیا گیا تھا جن میں فاسٹ ٹریک عدالت نے 31 افراد کو مجرم قرار دیا تھا گجرات کی ہائی کورٹ نے بعدازاں 14 افراد کو بری کر دیا تھا جبکہ آج بھارت کی سپریم کورٹ نے باقی 17 مجرموں کو بھی مشروط طور پر رہا کرنے اور انہیں نوکریاں فراہم کرنے کا حکم دیا ہی. یاد رہے کہ بھارت کے موجودہ وزیراعظم نریندر مودی 2002 میں ریاست گجرات کے وزیر اعلی تھے اور فسادات کو ہوا دینے میں نریندر مودی بھی ملوث تھے کیوں کہ فسادات کے دوران انہوں نے بلوائیوں کو روکنے کے لیے موثر اقدامات نہیں کیے تھے بلکہ گجرات کی پولیس اور انتظامیہ نے آرایس ایس کے دہشت گردوں کوبھرپور مددفراہم کی تھی.