سندھ ہائیکورٹ کاگٹکا کھانے سے منہ کے کینسر سے جاں بحق نسیم حیدر کیس میں ملزمان کے خلاف مقدمے میں 302 کی دفعات شامل کرنے کا حکم

پیر فروری 20:11

کراچی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 03 فروری2020ء) سندھ ہائیکورٹ نے گٹکا کھانے سے منہ کے کینسر سے جاں بحق نسیم حیدر کیس میں ملزمان کے خلاف مقدمے میں 302 کی دفعات شامل کرنے کا حکم دے دیا۔گٹکے کے خلاف جنگ شروع کرنے والا نسیم حیدر انصاف سے قبل ہی منہ کے کینسر باعث انتقال کرگیا۔

(جاری ہے)

گٹکا بنانے اور فروخت کرنے والوں کے خلاف کارروائی کے معاملے پرملزمان کی ضمانت منسوخی کے لیے درخواست کی سماعت درخواست گزار کے وکیل نے بتایا کہ مدعی مقدمہ نسیم حیدر منہ کے کینسر کے عارضے میں مبتلا تھے،یکم فروری کو مدعی مقدمہ کا انتقال ہوچکا ہیہزاروں لوگ گٹکا کھانے سے منہ کے کینسر میں مبتلا ہے،ملزمان کی ضمانت منسوخ کی جائے، اور گٹکے کی فروخت پر پابندی عائد کی جائے،پولیس کی سرپرستی میں گٹکا بیچا جارہا ہے، اس پر پابندی لگائی جائیاور ملزم کاشف بابو بتی ، اسحاق گودرا، کامران اور رئییس کی ضمانت منسوخ کی جائے۔

عدالت نے ریمارکس دیئے کہ گٹگا بنانے والے اورگٹکا فروش شہریوں کا قتل کر رہے ہیں عدالت نے پولیس کو ملزمان کے خلاف دفعہ 302 کے تحت کاروائی کرنے کا حکم دے دیا