آئی ایم ایف کا مزید دباو لینے سے انکار، وزیراعظم نے بجلی کی قیمتوں میں مزید اضافہ نہ کرنے اور شرح سود میں کمی کرنے کا فیصلہ کر لیا

ذرائع کے مطابق حکومت عوام پر بجلی کی قیمتوں میں اضافے کا مزید بوجھ نہیں ڈالے گی، جبکہ انڈسٹریل گروتھ میں تیزی کیلئے 13 فیصد سے زائد کی شرح سود میں بھی کمی کی جائے گی

muhammad ali محمد علی پیر فروری 20:32

آئی ایم ایف کا مزید دباو لینے سے انکار، وزیراعظم نے بجلی کی قیمتوں میں ..
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 17 فروری2020ء) آئی ایم ایف کا مزید دباو لینے سے انکار، وزیراعظم نے بجلی کی قیمتوں میں مزید اضافہ نہ کرنے اور شرح سود میں کمی کرنے کا فیصلہ کر لیا، ذرائع کے مطابق حکومت عوام پر بجلی کی قیمتوں میں اضافے کا مزید بوجھ نہیں ڈالے گی، جبکہ انڈسٹریل گروتھ میں تیزی کیلئے 13 فیصد سے زائد کی شرح سود میں بھی کمی کی جائے گی۔

تفصیلات کے مطابق ذرائع کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ وزیراعظم نے آئی ایم ایف کے دباو کے باوجود عوام کیلئے بجلی کی قیمتوں میں مزید اضافہ نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ جبکہ معاشی سست روی خاص کر انڈسٹری کا پہیہ چلانے کیلئے شرح سود میں بھی کمی کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف کی جانب سے مزید جو شرائط عائد کی جا رہی ہیں، ان شرائط سے پاکستان کی معیشت مزید سست روی کا شکار ہو سکتی ہے، اسی لیے وزیراعظم نے واضح کر دیا ہے کہ اس حوالے سے آئی ایم ایف کی مزید کوئی شرط قبول نہیں کی جائے گی۔

(جاری ہے)

اس حوالے سے وفاقی وزیر اسد عمر نے کہا ہے کہ شرح سود کو کم کیا جا سکتا ہے تاہم اس کا فیصلہ مانیٹری پالیسی کرتے ہے اور وہ اپنے فیصلوں میں مکمل طور پر آزاد ہے اس میں حکومت کا کوئی عمل دخل نہیں ہے۔ آئی ایم ایف کے ساتھ ہونے والے مذاکرات مثبت رہے اور انہوں نے پاکستان کے ترقیاتی کاموں کو سراہا جبکہ منی بجٹ کے حوالے سے مجھے کوئی معلومات نہیں ہیں۔

اسد عمر نے کہا کہ پاکستان کی برآمد نہیں بڑھائیں گے تو پاکستان ترقی نہیں کر سکتا،جب تک ہم اپنی برآمد نہیں بڑھائیں گے اس وقت تک مسائل کا سامنا رہے گا۔ اسد عمر کا کہنا ہے کہ شرح سود کو فوری طور پر کم نہیں کیا جا سکتا تاہم اسے دو قسطوں میں نیچے لایا جا سکتا ہے اور شرح سود کم ہو گا تو مہنگائی خود بخود کم ہو جائے گی۔ مالی سال 20-2019 تبدیلی کا سال ہے۔