ڈپٹی کمشنر جہلم کی زیر صدارت پرائس کنٹرول مجسٹریٹس کی کارکردگی کے حوالے سے اجلاس کا انعقاد

Umer Jamshaid عمر جمشید منگل فروری 19:03

ڈپٹی کمشنر جہلم کی زیر صدارت پرائس کنٹرول مجسٹریٹس کی کارکردگی کے حوالے ..
جہلم (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 25 فروری2020ء،نمائندہ خصوصی،طارق مجید کھوکھر) ڈپٹی کمشنر جہلم محمد سیف انور جپہ نے پرائس کنٹرول مجسٹریٹس کی کارکردگی کے حوالے سے منعقدہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اشیا ء خوردنی کو سرکاری نرخوں پر فراہم کیا جائے اور ناجائز منافع خوری، گراں فروشی، سرکاری ریٹ لسٹ آویزاں نا کرنے اور زائد قیمتوں پر اشیا فروخت کرنے والے دوکانداروں کے خلاف کارروائی عمل میں لائی جائے ۔

انہوں نے بتایا ہے کہ سرکاری نرخوں پر اشیا خرد نوش کو یقینی بنانے کے لئے ضلعی انتظامیہ جہلم کی جانب سے پرائس کنٹرول مجسٹریٹس نے ایک ماہ میں 8 لاکھ 25 ہزار سے زائد جرمانہ کیا۔یہ جرمانہ سرکاری نرخوں پر اشیاء خرد و نوش فراہم نہ کرنے ، ناجائز منافع خوری، زخیرہ اندوزی، نرخ نامے اویزاں نہ کرنے پر چیککنگ کے دوران کیا گیا، خلاف ورزی کرنے والے افراد کے خلاف کارروائی عمل میں لاتے ہوئے 8 ایف آئی آرز درج کی گئیں ۔

(جاری ہے)

ڈپٹی کمشنر نے واضع پیغام میں کہا ہے کہ خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف اسی طرح کارروائی یقینی عمل میں لائی جائے گی، اور کام نہ کرنے والے افسران کے لئے بھی کوئی گنجائش نہیں ۔تمام دکاندار، ریڑی بانوں اور دیگر فروٹ و سبزی فروش حضرات اشیائے خوردو نوش کی روزانہ بنیاد پر جاری نرخ نامہ آویزاں کرنے کے پابند ہیں،اسی طرح تمام دوکاندار مختلف اشیا خوردنی کے ریٹ بورڈ آویزاں کریں، پرائس کنٹرول مجسٹریٹس پرائس کو لسٹ، ریٹ بورڈ چیک کرنے کے سخت ہدایات، اشیائے خوردو نوش کی قیمتوں میں خو د ساختہ اضافہ کسی صورت قابل قبول نہیں۔

خلاف ورزی کرنے والے کے خلاف اسی طرح سخت سے سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ڈپٹی کمشنر سیف انور نے کہا ہے کہ جہلم کے صارفین زائد قیمتوں پر اشیا خوردنی فروخت کرنے والے دوکانداروں کے خلاف qeemat موبائل اپلیکیشن پر شکایات درج کروائیں اس کے علاوہ ایسے دوکانداروں کی تفصیلات ڈپٹی کمشنر دفتر جہلم اور تحصیل کے اسسٹنٹ کمشنر کے دفتر میں جمع کروائیں، جس پر بلا امتیاز کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ اجلاس میں ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر جنرل سید نزارت علی، اسسٹنٹ کمشنر جہلم ذوالفقار احمد،اے سی سوہاوہ شرجیل شاہد، چیف افسران اور ضلعی افسران و دیگر پرائس کنٹرول مجسٹریٹس اور نمائندگان تاجران موجود تھے ۔

متعلقہ عنوان :