سرگودھا ‘ تحصیل سائیوال مین بازار میں سرکٹ شارٹ ہونے سے بھڑکنے والی آگ نے درجنوں بند دکانوں اور شاپنگ سنٹر کو اپنی لپیٹ میں لے لیا‘کروڑوں روپے مالیت کا سامان جل کر راکھ ہوگیا

پیر مارچ 12:15

سرگودھا(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 23 مارچ2020ء) سرگودھا کی تحصیل سائیوال مین بازار میں سرکٹ شارٹ ہونے سے بھڑکنے والی آگ نے درجنوں بند دکانوں اور شاپنگ سنٹر کو اپنی لپیٹ میں لے لیا جس سے کروڑوں روپے مالیت کا سامان جل کر راکھ ہو گیا اور لوگوں نے آگ بجھانے کے لئے اپنی اپنی مدد کے تحت اقدامات کرتے ہوئے فائر بریگیڈ کے پہنچ جانے تک اپنی جدوجہد جاری رکھی تاہم کئی گھنٹوں بعد آگ پر قابو پا لیا گیا۔

زرائع کے مطابق تحصیل ساہیوال شہر میں حکومت کی ہدایت پر مارکیٹیں اور بازار بند تھے کہ شہر کے مین بازار میں شارٹ سرکٹ سے بھڑکنے والی آگ نے جنرل سٹور،کلاتھ ہاؤس،شوز ہاؤس اور دیگر بند درجن بھر دکانوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا اور اگ کے شعلے فضا میں بلند ہونے لگے تو لوگوں نے اپنی مدد آپ کے تحت امدادی کاروائی کرتے ہوئے فائربرئگید کے پہنچ جانے تک اپنی جدوجہد جاری رکھی اور آگ کے بلند شعلوں سے متعدد دکانیں جل کر راکھ ہو گئیں اور کروڑوں روپے مالیت کا سامان جل کر راکھ ہو گیا۔

(جاری ہے)

مقامی افسران نے ٹیموں کے ہمراہ موقع پر پہنچ کر امدادی کاموں کی نگرانی کی اور اسسٹنٹ کمشنر کی ہدایت پر سرگودھا سے چار فائر بریگیڈ کی گاڑیوں انتہائی جدوجہد کے بعد آگ پر قابو پا لیا اس موقع پر صدر انجمن تاجران سائیوال حاجی ملک غلام حسین،جنرل سیکرٹری رانا نثار احمد،صدر انجمن شہریان اشرف جوئیہ نے آتشزدگی کے واقعہ شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ مین بازار ساہیوال میں واپڈا کی لٹکتی ہوئی تاروں کے باعث سرکت شارٹ ہوا جس سے محمد سعید کے جنرل سٹور سے آگ بھرک اٹھی اور ایک درجن کے قریب دکانوں کو آگ کی لپیٹ میں لے لیا۔

یہ امر قابل ذکر ہیکہ عرصہ تین سال سے 1122فائر بریگیڈ کی عمارتیں ہونے کے باوجود آج تک حکومت اور ضلعی انتظامیہ نے مطالبات کے باوجود عملہ اور گاڑیاں فراہم نہیں کی گئیں اور سرگودھا سے گاڑیوں کی تاخیر سے آمد کے باعث تاجروں کا کڑوڑوں کا نقصان ہوا اور اسکی ذمہ دار ضلعی انتظامیہ ہے۔