Live Updates

فنکاروں کے نام آنے والی رقم کو خرد بٴْرد ،من پسند افراد میں تقسیم کو کسی صورت قبول نہیں کریں گے ، استاد بہار جان

فنکاروں کے لسٹ میں ایسے افراد کا نام شامل کیا گیا ہے جو صرف ایک سیاسی پارٹی کے ورکرز ہیں اٴْن کا کسی بھی فن کے ساتھ دور دور تک کوئی تعلق نہیں،پریس کانفرنس

ہفتہ مئی 15:36

پنجگور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 23 مئی2020ء) فنکاروں کے نام آنے والی رقم کو خرد برد کرنیاور اپنے من پسند افراد میں تقسیم کرنے کو کسی بھی صورت قبول نہیں کریں گے فنکاروں کے لسٹ میں ایسے افراد کا نام شامل کیا گیا ہے جو صرف ایک سیاسی پارٹی کے ورکرز ہیں اٴْن کا کسی بھی فن کے ساتھ دور دور تک کوئی تعلق نہیں.نان شبینہ کے محتاج غریب فنکاروں کے حق پر ڈاکہ ڈالنے والوں کو کسی بھی صورت میں برداشت نہیں کریں گی.ان خیالات کے اظہار پنجگور کے فنکاروں نے معروف سروزی استاد بہار جان کی سربراہی میں عزت اکیڈمی پنجگور میں ایک پرہجوم پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ دنوں کرونا کی وبا اور لاک ڈاون سے پیدا ہونے والی صورتحال کے پیش نظر حکومت بلوچستان نے مقامی فنکاروں کے نام پر جو ایک پیکیج کا اعلان کیا تھا اور بلوچستان کے تمام.اضلاع میں ضرورت مند فنکاروں کے نام لسٹ کرکے اٴْنہیں اپنے متعلقہ ڈپٹی کمشنرز کے دفتر میں جمع کئے گئے تھے اور لسٹ میں اٴْن ضرورت مند فنکاروں کے نام.شامل تھے جو لاک ڈاون کی وجہ سے متاثر تھے لیکن.پنجگور میں اس کے برعکس اس پر عمل کیا گیا.لسٹ میں اپنے من پسند افراد اور اٴْن سیاسی ورکرز کا نام شامل کیا گیا جو فنکار ہونا دور کی بات ہے وہ فن نامی کسی شیز سے واقفیت نہیں رکھتی.اس دوران استاد علی محمد دونلی والا استاد بہار جان استاد استاد فقیر جان بشیر احمد استاد لیاقت بلوچ رسول بخش اجمل صابر علی بلوچ ثناء اللہ دیگر موجود تھی.

لیکن اس وبا اور لاک ڈاون کے بدترین دنوں میں فنکاروں کے حق پر ڈاکہ ڈال کر فنکاروں کو مزید معاشی بد حالی کی جانب دھکیل دیا گیا ہی. انہوں نے کہا کہ نیشنل اکیڈمی کی جانب سے حقیقی فنکاروں کو محروم کر کے اپنے اٴْن ممبرز اور ایک سیاسی پارٹی کے اٴْن ورکرز کو شامل کیا گیا ہے جو فن کے نام سے بھی ناواقف ہیں.انہوں نے کہا کہ ہم.فنکار ہیں اور ہمارا واحد زریعہ معاش کسی شادی بیاہ اور دوسرے پروگراموں سے کچھ حاصل کرکے اپنے گھر کو چلانا ہے لیکن حکومت کی جانب سے اعلان کردہ پیکیج پر ڈاکہ ڈال کر پنجگور کے حقیقی فنکاروں کو معاشی طور پر مزید بدترین دور میں شامل کردیا گیا ہے جسے کسی بھی صورت قبول نہیں کریں گی.انہوں نے کہا کہ ہر فنکار تیس پنتیس اور کئی سالوں سے اس فن کاسہارا لئے ہوئے ہیں اور اس سے وہ اپنے بچوں کیلئے دو وقت کی روٹی کا بندوبست کرتے ہیں.

انہوں نے وزیر اعلی بلوچستان کمشنر مکران اور ڈپٹی کمشنر سے پر زور اپیل کرتے ہوئے کہا کہ ایک تقریب منعقد کرکے فنکاروں کو اپنے فن کا مظاہرہ کروا کر دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی کے فارمولے پر کام کیا جائے تاکہ فنکاری کے میدان میں یہ واضح ہو جائے کہ پنجگور کے فنکار کون کون ہیں

(جاری ہے)

کرونا وائرس کی تباہ کاریاں سے متعلق تازہ ترین معلومات