عظمیٰ خان تشدد کیس میں معاملات طے پاگئے

وکیل خدیجہ صدیقی نے معاملات طے ہو جانے کی تصدیق کر دی، خود کو کیس سے الگ کرنے کا اعلان

Usman Khadim Kamboh عثمان خادم کمبوہ پیر جون 22:23

عظمیٰ خان تشدد کیس میں معاملات طے پاگئے
لاہور ( اردو پوائنٹ اخبارا تازہ ترین۔ یکم جون 2020ء ) عظمیٰ خان تشدد کیس میں معاملات طے پاگئے ہیں۔ تشدد کا نشانہ بننے والی اداکاروماڈل عظمیٰ خان اور انکی بہن ہما خان کی وکیل خدیجہ صدیقی نے فریقین کے درمیان صلح ہوجانے کی تصدیق کردی ہے۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے کیس سے علیحدگی کا بھی اعلان کردیا ہے۔ بیرسٹر خدیجہ صدیقی نے اپنے ٹویٹر پیغام میں اعلان کیا ہے کہ ''ہم عظمیٰ خان کے کیس سے الگ ہورہے ہیں، میں دونوں خواتین کی جانب سے تصفیے کی وجہ سمجھتی ہوں لیکن اس کے باوجود میرا ضمیر مجھے اس سب کا حصہ بننے کی اجازت نہیں دیتا چاہے وہ پروفیشل حوالے سے ہی کیوں نہ ہو۔

لاقانونیت کے خلاف جدوجہد چلتی رہے گی''۔
خیال رہے کہ عید سے قبل چاند رات کو عظمیٰ خان اور انکی بہن کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا تھا جس کا الزام انہوں نے بحریہ ٹاؤن کے مالک ملک ریاض کی بیٹیوں امبر ملک، پشمینہ ملک اور ملک ریاض کی نواسی آمنہ ملک پر لگایا تھا۔

(جاری ہے)

اس کیس میں حسان نیازی انکے وکیل تھے اور خدیجہ صدیقی بھی انکی وکیل تھیں۔

اس سے قبل اداکارہ اور انکے وکیل کی جانب سے کہا گیا تھا کہ وہ کوئی آفر قبول نہیں کریں گے تاہم اب عظمیٰ خان کی وکیل خدیجہ صدیقی نے فریقین کے درمیان صلح ہوجانے کی تصدیق کردی ہے۔ اس سے قبل آج صبح ملک ریاض کی بیٹیوں کی ضمانت قبل از گرفتاری منظور کر لی گئی تھی۔ 50 ، 50 ہزار کے ضامن بانڈ کے عوض ملک ریاض کی دونوں بیٹیوں اور آمنہ عثمان کی ضمانت سیشن کورٹ نے منظور کر لی تھی۔

ایڈیشن ڈسٹرکٹ جج چوہدری فرخ حسین نے کیس کی سماعت کرتے ہوئے تینیوں خواتین کی ضمانت قبل از گرفتاری منظور کرتے ہوئے تھانہ ڈیفنس سی کی پولیس سے واقعے کا تمام تر ریکارڈ طلب کر لیا تھا، پشین ملک ، عنمبر ملک اور آمنہ عثمان کی جانب سے ضمانت قبل از گرفتاری کی پٹیشن اپنے وکیل طاہر نصراللہ کے ذریعے دائر کی تھی۔ جس میں موقف اختیار کیا گیا تھا کہ تینوں خواتین بے قصور ہیں۔ اداکارہ عظمیٰ خان کی جانب سے لگائے گئے تمام تر الزامات بے بنیاد ہیں۔