پارلیمنٹ بلوچستان کے بے گھر افراد کی وطن واپسی اور بحالی کے عمل کی نگرانی کرے گی،اسدقیصر

اسپیکر قومی اسمبلی کا بلوچستان کے عوام کو درپیش مسائل کو حل کرنے کی ضرورت پر زور

جمعہ 3 جولائی 2020 23:00

اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - آن لائن۔ 03 جولائی2020ء) اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر جو قومی اسمبلی کی خصوصی کمیٹی برائے بلوچستان کے چیئرمین بھی ہیں کی زیرصدارت بلوچستان کے اندرونی طور پر بے گھر ھونے والے افراد (آئی ڈی پیز) کی واپسی اور صوبے میں دیگر ترقیاتی منصوبوں کے سلسلے میں جمعہ کے روز پارلیمنٹ ھاوس میں ایک اعلی سطحی اجلاس منعقد ھوا۔

اجلاس میں وزیر دفاع پرویز خٹک ، وزیر توانائی عمر ایوب ، وزیر نجکاری محمد میاں سومرو ، وزیر اعظم کے مشیر برائے پٹرولیم ندیم بابر ، ایم این اے شاہ زین بگٹی ، سیفران اور انرجی کی وزارتوں ، بلوچستان حکومت اور نادرا کے نمائندوں نے شرکت کی۔ اسپیکر نے کہا کہ موجودہ حکومت نے بلوچستان میں امن وامان کی بحالی اور ترقی کو بہت اہمیت دیتی ہے۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ بلوچستان قدرتی وسائل سے مالامال ھے جن کو مالی میں صوبے کی عوام کی بہتری کے لیے صحیح طریقے سے استعمال نہیں کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ سی پیک پورے ملک خصوصا بلوچستان کے لئے گیم چینجر کی حیثیت رکھتا ھے اور اس کے تحت جاری منصوبوں کی تکمیل سے صوبے میں ترقی اور خوشحالی کے نئے دور کا آعاز ھو گا۔ انہوں نے کہا کہ مذکورہ بالا اہداف بلوچستان کے عوام کی فعال شمولیت کے بغیر حاصل نہیں ہوسکتے۔

اسپیکر نے کہا کہ امن و امان کی خراب صورتحال کی وجہ سے بلوچستان کے لوگوں کی ایک بڑی تعداد کو اپنے آبائی گھروں کو چھوڑنا پڑا تاہم امن وامان کی موجودہ صورتحال میں ان کا اپنے گھروں کو واپس آنے اور صوبے میں ترقیاتی سرگرمیوں میں شامل ہونے کا بھترین وقت ھے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت آئی ڈی پیز کی اپنے آبائی گھروں کو واپسی اور ان کی بحالی کے لیے ھر ممکن سہولت فراہم کرنے کے لئے تیار ہے۔

انہوں نے کہا کہ پارلیمنٹ بے گھر افراد کی مشکلات سے بخوبی آگاہ ھے اور اس سارے عمل کی نگرانی کرے گی۔ وزارت سیفران ، حکومت بلوچستان اور نادرا کے نمائندوں نے اجلاس کے شرکائ کو بے گھر افراد کی واپسی کے عمل کے سلسلے میں ایس او پیز کی تفصیلات سے آگاہ کیا۔ نمائندہ سیفران نے آگاہ کیا کہ کے پی کے ڈیزاسٹر منیجمنٹ اتھارٹی کی طرف سے وزیرستان کے آئی ڈی پیز کی آبادکاری کے لئے تیار کردہ ایس او پز کی طرز پر بلوچستان پی ڈی ایم اے کے ذریعہ بلوچستان کے بے گھر افراد کی بحالی عمل میں لاء جا سکتی ھے۔

انہوں نے اس ماڈل کے تحت اس عمل میں سہولت کاری کے ذمہ دار افسران کی تربیت بھی کی جاسکتی ہے۔ سینئر ممبر بورڈ آف ریونیو بلوچستان نے بتایا کہ اس عمل کو انجام دینے اور اس کی نگرانی کے لئے حکومت بلوچستان کی جانب سے ایک کمیٹی قائم کی جائے گی۔ چیئرمین نادرا نے آگاہ کیا کہ آئی ڈی پیز کا ڈیٹا اکٹھا کر کے متعلقہ حکام کو فراہم کیا جائے گا۔

اسپیکر نے کہا کہ بلوچستان کے عوام کے مسائل کو حل کرنا ہماری قومی ذمہ داری ہے اور ہر ایک کو نہایت دلجعمی سے اپنا اپنا کردار ادا کرنا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ وہ آئی ڈی پیز کمیٹی کے قیام کے لئے وزیر اعلی بلوچستان سے ذاتی طور پر بات کریں گے تاکہ جلد سے جلد اس عمل کا آغاز کیا جاسکے۔ اسپیکر نے پیٹرولیم ڈویڑن کو بلوچستان میں آئل اینڈ گیس کمپنیوں کی جانب سے اپنے آپریشن والے علاقوں میں سی ایس آر فنڈز سے ھونے والے سماجی و ترقیاتی کاموں کی تفصیلات سے متعلق رپورٹ پیش کرنے کی ھدایت کی۔ وفاقی وزرا نے حکومت کی جانب سے اس عمل کی انجام دھی میں ھر ممکن تعاون کا یقین دلایا۔