"ارطغرل غازی” ڈرامہ دیکھنا نامناسب ہے

جامعہ دارالعلوم کراچی نے "ارطغرل غازی” سے متعلق فتویٰ جاری کر دیا

Usman Khadim Kamboh عثمان خادم کمبوہ بدھ 15 جولائی 2020 20:37

"ارطغرل غازی” ڈرامہ دیکھنا نامناسب ہے
اسلام آباد (اردوپوائنٹ اخبار تازہ ترین۔ 15جولائی2020ء) : "ارطغرل غازی” ڈرامہ دیکھنا نامناسب ہے، جامعہ دارالعلوم کراچی نے "ارطغرل غازی” سے متعلق فتویٰ جاری کر دیا، تفصیلات کے مطابق پاکستان میں سب سے زیادہ مقبول ترک ڈرامہ "ارطغرل غازی'' اور دیگر ڈراموں کو جامعہ دارالعلوم کراچی نے مسلمانوں کے لیے دیکھنا نامناسب قرار دے دیا ہے۔ دارالعلوم کراچی نے "ارطغرل غازی” کو دیکھنا نامناسب قرار دیتے ہوئے فتویٰ دیا ہے کہ اسلامی ڈراموں سمیت تمام ڈرامے اسلام کے خلاف ایک سازش ہے جنہیں دیکھنا مسلمانوں کے لئے مناسب نہیں ہے۔

جامعہ دارالعلوم کراچی کی جانب سے جاری کیے گئے فتوے کے مطابق ” اسلام اور اسلامی شخصیات کو یا انکے کارناموں کو ڈراموں یا ویڈیو فلموں کے ذریعہ پیش کرنا خود ان ہستیوں کی شان مجروح کرنے کے مترادف ہے کیونکہ ڈراموں میں غلط بیانی اور غلط انتساب تقریباً لازمی ہے، لہٰذا اس کو اسلامک ڈرامہ کہنا یا اس طرح ڈراموں کی شکل میں بلند پایہ شخصیات کا کردار پیش کرکے اسے اسلام کی خدمت سمجھنا درست نہیں‘‘۔

(جاری ہے)

خیال رہے کہ ترک ڈرامہ "ارطغرل غازی” پاکستان میں اس وقت انتہائی مقبول ہے اور نوجوان نسل کی ایک بڑی تعداد اس ڈرامے کو دیکھ رہی ہے، "ارطغرل غازی” ڈرامہ سلطنت عثمانیہ سے متعلق ہے، اس ڈرامے سے متعلق وزیراعظم پاکستان عمران خان بھی کہہ چکے ہیں کہ اس طرح کے ڈرامے ہماری نوجوان نسل کو ہمارے اسلامی ہیروز سے روشناس کروانے میں مدد فراہم کر سکتے ہیں۔

اب جامعہ دارالعلوم کراچی کے منتظمین کا مزید کہنا تھا کہ کیونکہ اس قسم کے ڈراموں سے اسلام اور اسلامی شخصیات کا حقیقی تشخص مسخ ہو جاتا ہے، جو اپنی طرف سے حلیہ، لباس اور گفتگو کو منسوب کیا جاتا ہے جو در حقیقت اسلام کی خدمت نہیں بلکہ اسلام کےخلاف سازش کا ایک حصہ ہے، لہٰذا اس طرح کی فلمیں بنانا، دیکھنا اور دکھانا گناہ ہے اور مسلمانوں کو ان سے مکمل پرہیز کرنا لازم ہے۔

متعلقہ عنوان :