پی اے سی کی مانیٹرنگ اور عمل درآمد کمیٹی کا ہدایات پر عمل نہ کر نے پر ایف آئی اے اور ایف بی آر پر سخت برہمی کااظہار

پی اے سی کی ہدایات پر عمل نہ کرنے والے افسران کی نشاندہی کی جائے، معاملہ پی اے سی کی مرکزی کمیٹی میں لے کر جائینگے ، غیر زمہ داری کا مظاہرہ کرنے والے افسران کو ملازمت سے ہٹانے کی سفارش کریں گے ، چیئر مین سر دار ایاز صادق سگریٹ ساز کمپنیوں سے 6.78 ارب روپے ٹیکس وصولی کا کیس 10 سال سے زیر التواء کا انکشاف ، جلد سماعت کیلئے سندھ ہائی کورٹ کو خط لکھنے کی ہدایت کمیٹی نے عدالتوں سے ایف بی آر کے دس دس سال سے زیر التواء مقدمات کی جلد درخواست کرتے ہوئے آئندہ اجلاس میں اٹارنی جنرل اور سیکرٹری قانون کو زیر التواء مقدمات کی تفصیلات سمیت طلب کرلیا

جمعرات جولائی 20:56

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 16 جولائی2020ء) پی اے سی کی مانیٹرنگ اور عمل درآمد کمیٹی نے ہدایات پر عمل نہ کر نے پر ایف آئی اے اور ایف بی آر پر سخت برہمی کااظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ پی اے سی کی ہدایات پر عمل نہ کرنے والے افسران کی نشاندہی کی جائے، معاملہ پی اے سی کی مرکزی کمیٹی میں لے کر جائینگے ، غیر زمہ داری کا مظاہرہ کرنے والے افسران کو ملازمت سے ہٹانے کی سفارش کریں گے جبکہ سگریٹ ساز کمپنیوں سے 6.78 ارب روپے ٹیکس وصولی کا کیس 10 سال سے زیر التواء کا انکشاف ہوا جس پر جلد سماعت کیلئے سندھ ہائی کورٹ کو خط لکھا جائیگا ،کمیٹی نے عدالتوں سے ایف بی آر کے دس دس سال سے زیر التواء مقدمات کی جلد درخواست کرتے ہوئے آئندہ اجلاس میں اٹارنی جنرل اور سیکرٹری قانون کو زیر التواء مقدمات کی تفصیلات سمیت طلب کرلیا ۔

(جاری ہے)

جمعرات کو پی اے سی کی مانیٹرنگ اور عمل درآمد کمیٹی کا اجلاس سردار ایاز صادق کی زیر صدارت ہوا جس میں ایف بی آر ان لینڈ ریونیو کے آڈٹ اعتراضات کا جائزہ لیا گیا ۔چیئرمین ایف بی آر جاوید غنی نے پی اے سی ذیلی کمیٹی کو بریفننگ دی ۔کمیٹی نے ہدایات پر عمل نہ کرنے پر ایف آئی اے اور ایف بی آر پر اظہار برہمی کیا اور کہاکہ پی اے سی کی ہدایات پر عمل نہ کرنے والے افسران کی نشاندہی کی جائے۔

سردار ایاز صادق نے کہاکہ معاملہ پی اے سی کی مرکزی کمیٹی میں لے کر جاوں گا۔ انہوںنے کہاکہ غیر ذمہ داری کا مظاہرہ کرنے والے افسران کو ملازمت سے ہٹانے کی سفارش کریں گے۔ پی اے سی کی ذیلی کمیٹی نے کہاکہ ایف بی آر کے عدالتوں میں دس دس سال سے مقدمات زیر التواء ہیں۔ سر دار ایاز صادق نے کہاکہ اٹارنی جنرل بتائیں ایف بی آر اور حکومتی کیسز میں کیا پیش رفت ہوئی، عدالتوں سے درخواست کی جائے کہ اربوں روپے کے مقدمات کا جلد فیصلہ سنایا جائے۔

کمیٹی نے پی اے سی کے اگلے اجلاس میں اٹارنی جنرل اور سیکرٹری قانون کو طلب کر لیا گیاجبکہ چیئرمین ایف بی آر ہدایات پر عمل درآمد کیلئے مزید وقت مانگ لیا۔کمیٹی نے ایف بی آر سے عدالتوں میں زیر التواہ مقدمات کی تفصیلات طلب کر لیں۔ آڈٹ حکام نے انکشاف کیاکہ سگریٹ ساز کمپنیوں سے 6.78 ارب روپے ٹیکس وصولی کا کیس 10 سال سے زیر التواء ہے ۔ ایف بی آر حکام نے کہاکہ سگریٹ ساز کمپنیوں نے 2010 سے سندھ ہائی کورٹ سے اسٹے لے رکھا ہے، غیر رجسٹرڈ افراد کو سگریٹ فلٹر فروخت کرنے پر ایکسائز ڈیوٹی وصول نہیں کی گئی، ٹیکس نادہندہ سگریٹ مینوفیکچررز فاٹا اور شمالی علاقوں میں آپریٹ کر رہے ہیں، قانون میں ترمیم کرکے غیر رجسٹرڈ افراد کو سیل پر پابندی عائد کر دی ہے۔

پی اے سی نے کیس کی جلد سماعت کیلئے سندھ ہائی کورٹ کو خط لکھنے کی ہدایت کر دی۔ سر دار ایاز صادق نے کہاکہ چیئرمین ایف بی آر چیف جسٹس سندھ ہائی کورٹ کو خط لکھیں۔