انگلینڈ کی ٹیم کو پاکستان کا دورہ ضرورکرنا چاہیے، چیئرمین ای سی بی

پاکستان دوبارہ کرکٹ کی میزبانی کر رہا ہے اور ہمیں ضرور جانا چاہے اور اگر محفوظ ہے تو دورہ کرنا چاہیے،واٹمور

بدھ ستمبر 13:20

لندن(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 02 ستمبر2020ء) انگلینڈ اینڈ ویلز کرکٹ بورڈ (ای سی بی)کے نئے سربراہ آئن واٹمور نے کہا ہے کہ انگلش ٹیم کو پاکستان کا دورہ ضرورکرنا چاہیے۔غیر ملکی میڈیا کے مطابق واٹمور نے پاکستان کا دورہ انگلینڈ مکمل ہونے سے قبل ہی اپنے بیان میں کہا کہ یہ ہمارے لیے اور کھیل کے لیے شان دار ہوگا کہ کرکٹ کو واپس لایا جائے۔

انہوںنے کہاکہ پاکستان دوبارہ کرکٹ کی میزبانی کر رہا ہے اور ہمیں ضرور جانا چاہے اور اگر محفوظ ہے تو دورہ کرنا چاہیے۔یاد رہے کہ انگلینڈ کی ٹیم نے 06-2005 کے بعد پاکستان کا دورہ نہیں کیا جبکہ 2009 میں لاہور میں سری لنکا کی ٹیم پر حملے کے بعد ایک دہائی تک دنیا کی تمام بڑی ٹیمیں پاکستان نہیں آئیں۔پاکستان نے اس دوران متحدہ عرب امارات میں اپنی سیریز کی میزبانی کی اور یہاں تک کہ پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل)کا آغاز بھی امارات میں ہوا۔

(جاری ہے)

انگلینڈ کی ٹیم کا دورہ پاکستان 2022 میں شیڈول ہے جبکہ دیگر ممالک کی ٹیمیں بھی ممکنہ طور پر دورہ کریں گی۔انگلینڈ سے تعلق رکھنے والے کھلاڑیوں نے رواں برس پی ایس ایل میں شرکت کی تھی جس کے تمام میچز پاکستان میں کھیلے گئے تھے تاہم کورونا کے باعث لیگ مکمل نہیں ہوپائی۔ای سی بی کے نئے سربراہ نے عہدہ سنبھالنے کے بعد پہلے روزپریس کانفرنس میں پاکستان کے دورے کی بات کی اور اس کے علاوہ انگلش بورڈ کو کووڈ-19 کے باعث درپیش مالی مسائل سے بھی آگاہ کیا۔

آئن واٹمور کاروباری شخصیت ہیں اور سرکاری ملازم بھی رہے ہیں جبکہ کھیل میں انگلینڈ کی فٹ بال ایسوسی ایشن کی انتظامیہ میں بھی کام کرتے رہے ہیں۔انہوں نے سابق سربراہ کولن گریویس کی کنارہ کشی کے بعد بورڈ کے چیئرمین کا عہدہ سنبھالا ہے۔انگلینڈ میں پاکستان اور ویسٹ انڈیز کے علاوہ آسٹریلیا اور آئرلینڈ بھی تماشائیوں سے خالی میدان میں کھیلنے کے لیے آگئے ہیں، لیکن ای سی بی کو 13 کروڑ 40 لاکھ ڈالر خسارے کا سامنا ہے۔

واٹمور نے کہا کہ بورڈ میں ملازمین کو کم کرنا ناگزیر ہوگیا ہے۔انہوں نے کہا کہ ہر کانٹی اہم ٹورنامنٹ کا انعقاد کرکے انگلینڈ کرکٹ کے مستقبل کے لیے اپنا کردار ادا کرسکتی ہے۔سربراہ ای سی بی نے کہا کہ اگر معیشت اور کارکردگی کا معیار اس کی اجازت نہ دے اور کوئی کانٹی انفرادی طور پر کچھ مختلف کرنا چاہتی تو پھر اس پر بات ہوگی۔خیال رہے کہ پاکستان کرکٹ ٹیم تین ٹیسٹ اور تین ٹی ٹوئنٹی میچوں کی سیریز پر مشتمل دورہ مکمل کر رہی ہے۔

ٹیسٹ سیریز میں انگلینڈ نے پاکستان کو 0-1 سے شکست دی تھی جبکہ ٹی ٹوئنٹی کے دوسرے میچ میں بھی میزبان ٹیم نے کامیابی سمیٹی، جبکہ پہلا میچ بارش کے باعث نتیجہ خیز ثابت نہیں ہوا۔اس سے قبل ویسٹ انڈیز کی ٹیم نے انگلینڈ کا دورہ کیا تھا جو کورونا وائرس کی بندشوں کے بعد کسی بھی ٹیم کا پہلا بین لاقوامی دورہ تھا۔