سانحہ گجرہ پورہ کے ملزم کے حوالے سے اہل علاقہ کے خوفناک انکشافات

جرائم سے روکنے پر عابد علی نے اپنے ماموں کو قتل کر ڈالا، بچوں کو بھی زیادتی کا نشانہ بنایا، ماں بیٹی کو اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنانے کا کیس سیاسی لوگوں کے دباو پر ختم کیا گیا

muhammad ali محمد علی اتوار ستمبر 00:33

سانحہ گجرہ پورہ کے ملزم کے حوالے سے اہل علاقہ کے خوفناک انکشافات
فورٹ عباس (اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 12 ستمبر2020ء) سانحہ گجرہ پورہ کے ملزم کے حوالے سے اہل علاقہ کے خوفناک انکشافات، جرائم سے روکنے پر عابد علی نے اپنے ماموں کو قتل کر ڈالا، بچوں کو بھی زیادتی کا نشانہ بنایا، ماں بیٹی کو اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنانے کا کیس سیاسی لوگوں کے دباو پر ختم کیا گیا۔ تفصیلات کے مطابق سانحہ گجر پورہ کے بعد ملک میں پولیس اور نظام انصاف کے نقائص مکمل طور پر عیاں ہو گئے ہیں۔

گجر پورہ زیادتی کیس کے مرکزی ملزم عابد علی اور اس کے ساتھیوں کے حوالے سے اہل علاقہ نے خوفناک انکشافات کیے ہیں۔ ملزم عابد علی فورٹ عباس کے چک 260 سے تعلق رکھتا ہے، اہل علاقہ نے انکشاف کیا ہے کہ ملزم بچوں کو بھی زیادتی کا نشانہ بنانے میں ملوث رہا۔ ملزم اور اس کے ساتھیوں نے گاوں والا جینا حرام کر رکھا تھا۔

(جاری ہے)

یہ لوگوں گاوں والوں کی عزتیں لوٹتے، ڈکیتیاں اور قتل غارت کرتے رہے۔

ملزم عابد علی نے بچوں کو بھی زیادتی کا نشانہ بنایا۔ عابد علی کو جب اس کے ماموں نے جرائم سے روکنے کی کوشش کی تو ملزم نے اسے بھی قتل کر ڈالا۔ بعد ازاں میں ملزم نے ساتھیوں سمیت ایک خاتون اور اس کی بیٹی کو اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنایا۔ ملزم کو سیاسی لوگوں کی پشت پناہی حاصل تھی، عابد علی کو خاتون اور اس کی بیٹی کو اجتماعی زیادتی کے کیس سے ان سیاسی لوگوں نے ہی بچایا۔

اہل علاقہ کا مزید بتانا ہے کہ برسوں قبل کافی مشکل سے عابد علی اور اس کے ساتھیوں کو گاوں سے نکالنے میں کامیاب رہے تھے۔ مزید انکشاف ہوا ہے کہ سانحہ گجر پورہ کے دونوں مرکزی ملزمان گزشتہ ماہ گرفتاری کے بعد رہا کر دیے گئے تھے۔ سانحہ گجر پورہ کا مرکزی ملزم عابد علی گزشتہ ماہ اگست میں گرفتار کیا گیا تھا، تاہم بعد ازاں اسے رہا بھی کر دیا گیا۔

جبکہ اس کے ساتھی سانحہ گجر پورہ کے دوسرے ملزم وقار الحسن کو بھی 14 روز قبل ہی رہا کیا گیا۔ وقار الحسن پر بھی ڈکیتیوں اور جنسی زیادتی کے مقدمات درج ہیں، پھر بھی اسے ضمانت پر رہا کر دیا گیا۔ ملزم عابد علی اپنے بھیانک جرائم کی وجہ سے پہلی مرتبہ 2013 میں پولیس کی نظر میں آیا۔ 2013 میں عابد علی نے اپنے ساتھیوں کیساتھ مل کر ایک مزدور شخص کے گھر پر دھاوا بولا اور اس کے سامنے اس کی اہلیہ اور 15 سالہ بیٹی کو گھنٹوں تک اجتماعی زیادتی کا نشانہ بناتے رہے۔ بعد ازاں متاثرہ مزدور نے جب پولیس سے رابطہ کیا تو پولیس نے ملزم کیخلاف کوئی کاروائی عمل میں نہ لائی۔

متعلقہ عنوان :