عابد علی کو زمین کھا گئی یا آسمان نگل گیا،درجنوں ٹیمیں بھی گرفتار کرنے میں ناکام

واقعے کو 7 روز گزار گئے لیکن پولیس کی 26 ٹیمیں بھی ملزم کو گرفتار کرنے میں ناکام ہو گئیں

Muqadas Farooq مقدس فاروق اعوان بدھ ستمبر 12:02

عابد علی کو زمین کھا گئی یا آسمان نگل گیا،درجنوں ٹیمیں بھی گرفتار کرنے ..
لاہور (اردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔ 16 ستمبر 2020ء) لاہور موٹروے زیادتی کیس کا مرکزی ملزم عابد علی 7 روز بعد بھی قانون کے شکنجے میں نہ آ سکا۔تحقیقاتی ٹیمیں ملزم کی گرفتاری کے لیے تفتیش کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں۔موٹروے پر خاتون سے زیادتی کا اندوہناک واقعہ 9 ستمبر کو پیش آیا۔کئی روز گزر گئے لیکن عابد علی نہ پکڑا جا سکا۔پولیس کی 26 ٹیمیں ملزم کی گرفتاری پر مامور ہیں لیکن تاحال کوئی کامیابی حاصل نہیں ہو سکی۔

ملزم شفقت علی کے بتائے ہوئے تمام ٹھکانوں پر پولیس نے چھاپے مارے ہیں، لیکن عابد علی وہاں بھی نہ ملا۔اس کیس میں عباس نامی شخص اور بالا مستری کی گرفتاری بھی کسی کام نہ آئی۔دوسری جانب میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ ممکنہ طور پر سانحہ گجر پورہ کا مرکزی ملزم عابد پنجاب کے خطرناک علاقے کچے میں موجود ہو سکتا ہے۔

(جاری ہے)

بتایا گیا ہے کہ پنجاب پولیس اور تفتیشی ٹیم نے اسی باعث کچے کے علاقے کا رخ کر لیا ہے۔

پنجاب حکومت اور پولیس کا دعویٰ ہے کہ مفرور ملزم عابد علی کو جلد گرفتار کر لیا جائے گا۔ واضح رہے کہ عابد علی 2 روز قبل پولیس کے چھاپے سے کچھ دیر قبل بیوی کیساتھ فرار ہوگیا تھا۔ ملزم اور اس کی بیوی اپنی اپنی بیٹی کو گھر میں اکیلا چھوڑ کر فرار ہوئے۔ پولیس نے ملزم کی بیٹی کو تحویل میں لے لیا تھا۔ جبکہ ملزم عابد کے بھائی اور والد کو بھی گرفتار کیا جا چکا۔

پولیس کا مزید بتانا ہے کہ سانحہ گجر پورہ میں ملوث باقی 2 ملزمان شفقت اور اقبال عرف بالا کو بھی گرفتار کیا جا چکا۔ شفقت نے اعتراف جرم کرتے ہوئے سانحہ گجر پورہ کی تمام تفصیلات بیان کر دی ہیں۔ جبکہ متاثرہ خاتون نے شفقت کے بیان میں بتائی گئی تفصیلات کی تصدیق اور ملزمان کی شناخت بھی کر لی ہے۔ متاثرہ خاتون نے وزیراعظم عمران خان سے مطالبہ کیا ہے کہ سانحہ گجر پورہ میں ملوث ملزمان کو پھانسی کی سزا دی جائے، تب ہی اسے سکون ملے گا۔ خاتون کا کہنا ہے اس کے اہل خانہ نے ملک میں تبدیلی کیلئے وزیراعظم عمران خان کی حمایت کی تھی، اب انصاف کی فراہمی سے تبدیلی نظر آنی چاہیئے۔