امریکی صدرر کو زہر دینے کی کوشش ناکام

زہریلا مواد والا پارسل میں بھجوایا گیا تھا. امریکن سیکریٹ سروس

Mian Nadeem میاں محمد ندیم پیر ستمبر 09:29

امریکی صدرر کو زہر دینے کی کوشش ناکام
واشنگٹن(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔22 ستمبر ۔2020ء) امریکی صدر کو زہریلے مواد والا پارسل بھجوایا گیا تھا تاہم اس کو اسکریننگ ڈیسک نے ضبط کرلیا ہے. امریکی نشریاتی ادارے ”سی این این“نے بتایا ہے کہ رواں ہفتے قانون نافذ کرنے والے اداروں نے وائٹ ہاﺅس میں صدرڈونلڈ ٹرمپ کے لیے بھجوایا گیا ”ریسین“نامی زہر کا ایک پیکٹ قبضے میں لیا ہے ایف بی آئی اور سیکریٹ سروس اس زہریلے پیکٹ کی تحقیقات کر رہی ہیں.

حکام کا کہنا ہے کہ پارسل کینیڈا سے بھجوایا گیا ہے‘ پارسل میں زہریلا ریسین مواد موجود ہے ریسین ایک انتہائی زہریلا مرکب ہے جسے پہلے بھی متعدد “دہشت گردانہ ” کارروائیوں میں استعمال کیا جا چکا ہے.

(جاری ہے)

اس کا استعمال پاﺅڈر ، دانے دار یا دھوئیں کی شکل میں ہوسکتا ہے اگر اسے نگل لیا جائے تو معدہ اور آنتوں میں متلی ، الٹی ، اور اندرونی خون بہنے کا سبب بنتا ہے اس کے بعد جگر، تلی اور گردوں کا کو ناکارہ بناتا ہے اور خون کی گردش میں خرابی پیدا کرکے متاثرہ شخص کو موت سے ہمکنار کردیتا ہے.

سی این این کے مطابق زہریلا پارسل بھیجنے والی مشتبہ خاتون کو کینیڈا سے امریکہ میں داخل ہوتے وقت بارڈرد پر گرفتار کر لیا گیا ہے قانون نافذ کرنے والے اداروں کا کہنا ہے کہ خاتون کے پاس ایک پستول بھی تھا خاتون میں حراست میں لے کر مزید تفتیش کی جا رہی ہے. تاہم وائٹ ہاﺅس کی جانب سے ابھی اس کی تصدیق یا تردید نہیں کی گئی جبکہ ایک خیال یہ بھی ہے کہ نومبر میں ہونے والے صدارتی انتخابات میں عوامی ہمدردیاں حاصل کرنے کے لیے ان کے کسی” ہمدرد “کی جانب سے اس طرح کی کوشش کی گئی ہو امریکا کے مقامی ذرائع ابلاغ میں بھی اس خبر کو نمایاں طور پر نشر اور شائع کیا گیا ہے تاہم ممکنہ خاتون ”حملہ آور“کے بارے میں تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں.

واضح رہے کہ امریکا میں صدارتی انتخابات3نومبر کو ہورہے ہیں صدرڈونلڈ ٹرمپ دوسری مدت کے لیے ری پبلیکن پارٹی کی جانب سے جبکہ صدر اوباما کے ساتھ نائب صدر کے طور پر کام کرنے والے جوبائیڈن ڈیموکریٹس کی جانب سے امیدوار ہیں . اب تک سامنے آنے والے عوامی جائزوں کے مطابق جوبائیڈن کو صدر ٹرمپ کے مقابلے میں برتری حاصل ہے تاہم امریکا کے انتخابی نظام میں براہ راست (عوامی ووٹ)کے مقابلے میں الیکٹرولزکے پاس حتمی فیصلہ کرنے کا اختیار ہوتا ہے لہذا جس طرف الیکٹرولزجائیں گے وہی اوول آفس میں پہنچے گا.