Live Updates

برسوں سے چلنے آلی والی خاندانی دشمنی ختم، 22 قتلوں کے بعد تینوں گروپوں نے صلح کر لی

صلح کروانے میں سیاسی شخصیات نے بھی اہم کردار ادا کیا،تینوں گروپوں کے افراد نے ایک دوسرے کو گلے لگا لیا

Muqadas Farooq مقدس فاروق اعوان منگل ستمبر 14:17

برسوں سے چلنے آلی والی خاندانی دشمنی ختم، 22 قتلوں کے بعد تینوں گروپوں ..
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 22 ستمبر2020ء) لاہور میں عرصہ دراز سے چلے آنے والی خاندانی دشمنی کا باب بند ہو گیا۔لکھو ڈیرہ سے شروع ہونے والی 3 دشمن وار گروپوں میں صلح ہو گئی۔تینوں گروپس کے اب تک 22 افراد قتل ہو چکےہیں۔علاقے کے معززین اور دوستوں نے تینوں گروپوں کے مابین صلح کروائی ہے۔پولیس کا کہنا ہے کہ تینوں گروپس کے قتلوں کے مقدمات مختلف تھانوں میں درج ہیں۔

مولانا عبدالخبیر اور دیگر بھی صلح کے موقع پر موجود تھے۔ایم پی اے خواجہ عمران نذیر اور پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما قاسم ضیاء بھی موقع پر موجود تھے۔ایک گروپ کے سربراہ جنرل سیکرٹری پیپلز پارٹی اسرار الحق بٹ ہیں۔دوسری طرف ن لیگ کے ایم پی اے سہیل شوکت بٹ ہیں۔جب کہ تیسرا گروپ اندرون شہر میں ٹیپوٹرکاں والے کے بیٹے کا ہے۔

(جاری ہے)

بتایا گیا ہے کہ ان خاندانوں میں کئی سالوں سے دشمنی چلی آ رہی تھی۔

تاہم اب اس دشمنی کا خاتمہ ہو گیا ہے اور تینوں خاندانوں نے آپس میں صلح کر لی ہے۔اس موقع پر بڑی تعداد میں معزز افراد بھی موجود تھے۔اگرچہ اس دشمنی میں اب تک 22 افراد زندگی کی بازی ہار چکے ہیں تاہم مزید کسی جانی نقصان سے بچنے کے لیے خاندانی دشمنی ختم کرنے کا فیصلہ کیا گیا،سالوں سے ایک دوسرے کو دشمن سمجھنے والے افراد نے ایک دوسرے کو گلے لگا لیا۔

مسلم لیگ ن کے ایم پی اے نے تینوں گروپوں میں صلح میں اہم کردار ادا کیا ان کا کہنا ہے کہ لاہور ہمارا شہر ہے،اور یہاں کے لوگ اپنے ہیں۔یہاں پر امن و امان کی فضا کو قائم کرنے کے لیے یہ اقدام اٹھایا گیا۔
واضح رہے کہ 03 جولائی 2019ء کو لاہور کے علامہ اقبال انٹرنیشنل ائیرپورٹ پر دو ملزمان نے فائرنگ کر کے دو افراد کو موت کے گھاٹ اُتار دیا تھا۔

ملزمان نے بتایا کہ ائیرپورٹ کے اندر داخل ہوتے وقت ہم نے اپنا اسلحہ اپنی خواتین کو پکڑا دیا تھا۔ خواتین کی چیکنگ نہیں ہوئی اور وہ اسلحہ اپنے ساتھ اندر لے آئیں، ہم نے ائیرپورٹ کے اندر داخل ہو کر ان سے اسلحہ لے لیا۔ یاد رہے کہ آج صبح لاہور کے علامہ اقبال ائیرپورٹ پر ذاتی دشمنی کے شاخسانے میں عمرہ کر کے واپس آنے والے 2 افراد کو دن دیہاڑے فائرنگ کرکے قتل کر دیا گیا تھا۔

جدہ سے آنے والی پرواز سے نفیس جٹ اور زین جٹ عمرہ کر کے واپس پہنچے، تقریبا سوا دس بجے بین الاقوامی آمد کے لاؤنج سے باہر نکلے تو انہیں معلوم نہیں تھا کہ سامنے موت کھڑی ہے۔ پولیس ذرائع کے مطابق دو ملزمان ارشد اور شان نے مقتولین پر انتہائی قریب سے فائر کھول دیا جس سے نفیس موقع پر دم توڑ گیا جبکہ شان زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے جان کی بازی ہار گیا۔

نفیس اور زین کا نام پیپلزپارٹی کے رہنما بابر بٹ کے قتل میں لیا جاتا ہے اور قاتلوں نے اس دشمنی کی بنیاد پر نفیس اور زین کو موت کے گھاٹ اتارا جبکہ 2017ء میں درج ہونے والی بابر بٹ قتل کی ایف آئی آر میں عاطف جٹ، عرفان جٹ اور عاطی بٹ نامزد ملزمان ہیں۔ دو نامعلوم افراد اور اس وقت کے مسلم لیگ ن کے ایم این اے سہیل شوکت بٹ کو بھی نامزد کیا گیا تھا۔ پولیس ذرائع کے مطابق ملزمان نے بابر بٹ قتل کا بدلہ لینے کے لیے ہی مقتولین کو مارا۔تاہم آج ان گروپوں نے آپس میں صلح کر لی ہے،
پی ڈی ایم کے جلسے سے متعلق تازہ ترین معلومات