بنیادی مرکزی صحت پھلڑے سیداں میں ویڈیو معاملہ،غیراخلاقی ویڈیوز بنانے میں کوئی صداقت نہیں ہے،سی ای او ہیلتھ جہلم

Umer Jamshaid عمر جمشید جمعرات ستمبر 18:02

جہلم (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 24 ستمبر2020ء،نمائندہ خصوصی،طارق مجید کھوکھر) ڈپٹی کمشنر دفتر جہلم میں بنیادی مرکز صحت پھلڑے سیداں کے حوالے سے درخواست موصول ہوئی جس میں یہ الزام عائد کیا گیا تھا کہ مذکورہ سینٹر سٹاف ایک پولیس کانسٹیبل کے ساتھ مل کے زچگی کے دوران عورتوں کی ویڈیوز بناتا ہے اور پھر پولیس کانسٹیبل ان ویڈیوز کے ذریعے عورتوں کو بلیکمیل کرتا ہے۔

درخواست میں یہ بھی الزام لگایا گیا کہ یہ پولیس کانسٹیبل سینٹر کے معاملات پر بھی اثرانداز ہوتا ہے ۔ اس درخواست پر چیف ایگزیکٹیو آفیسر ڈی ایچ اے جہلم نے ڈپٹی ڈسٹرکٹ آفیسر ہیلتھ سوہاوہ کومعاملے کی انکوائری کرنے کا حکم دیا۔ ڈپٹی ڈسٹرکٹ آفیسر ہیلتھ سوہاوہ نے انکوائری کرنے کے بعد اپنی رپورٹ میں بتایا کہ مزکورہ پولیس کانسٹیبل ایک مڈوائف کا بہنوئی ہے اور وہ سنٹر کے معملات پر اثر انداز ہو رہا ہے اور اس کے ایک لیڈی ہیلتھ وزیٹر کے ساتھ غیر اخلاقی مراسم بھی ہیں۔

(جاری ہے)

جہاں تک عورتوں کی ویڈیوز بنا کہ بلیکمیل کرنے کا الزام ہے وہ انکوائری میں ثابت نہیں ہو سکا۔ جس پر فوری ایکشن لیتے ہوئے سی ای او ڈاکٹر وسیم اقبال نے ڈپٹی ڈسٹرکٹ آفیسر ہیلتھ سوہاوہ کی تجویز پر ایک لیڈی ہیلتھ وزیٹر، ایک مڈوائف اور ایک نائب قاصد کو بنیادی مرکز صحت پھلڑے سیداں سے ٹرانسفر کر دیا اور مزکورہ پولیس کانسٹیبل کے خلاف اکشن لینے کے لئے ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر جہلم کو خط لکھ دیا۔

انکا کہنا تھا کہ سینٹر سٹاف کو سسپنڈ یا نوکری سے برخواست کرنے کی بات ہے میں کوئی صداقت نہیں ہے اور نہ ہی غیراخلاقی ویڈیوز بنانے میں کوئی صداقت ہے کیونکہ انکوائری کے دوران ایسی کوئی بھی ویڈیو نہیں ملی۔ سی او ہیلتھ نے بتایا ہے کہ انکوائری رپورٹ میریٹ کی بنیاد پر مکمل کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر کو بھی ارسال کر دی گئی ہے ۔

متعلقہ عنوان :