صوبائی محتسب اعلیٰ تقرری اختیارات کیس: حکومت سندھ نے سندھ ہائی کورٹ میں جواب جمع کرا دیا

وزیر اعلی سندھ نے صوبائی محتسب کی تقرری کے اختیارات غصب کئے تا کہ کرپشن کرنے میں آسانی رہی:الطاف شکور

جمعرات ستمبر 19:17

کراچی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 24 ستمبر2020ء) حکومت سندھ نے صوبائی محتسب تقرری کے اختیارات کیس میںسندھ ہائی کورٹ میں جواب جمع کرا دیا۔ پاسبان ڈیموکریٹک پارٹی کے چیئرمین الطاف شکور کی جانب سے سندھ ہائی کورٹ میں دائر آئینی درخواست نمبر 929/2020 کی سماعت جسٹس محمد علی مظہر اور جسٹس یوسف علی سعید پر مشتمل دو رکنی بینچ نے کی۔

پاسبان کی آئینی درخواست میں عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ وہ صوبائی محتسب کی تعیناتی کے اختیارات سے متعلق صوبہ سندھ (ترمیمی) ایکٹ 2020کے قیام کو غیر آئینی قرار دے۔ پاسبان کے وکیل عرفان عزیز ایڈووکیٹ نے معزز عدالت کو بتایا کہ نئے قانون کے مطابق، گورنر سندھ عمران اسماعیل کو ایک اور اختیار سے محروم کردیا گیا ہے کیونکہ چیف صوبائی محتسب کی تقرری کا اختیار گورنر سے چھین کر و زیر اعلی سندھ سید مراد علی شاہ کو دے دیا گیا ہے۔

(جاری ہے)

وزیراعلیٰ سندھ نے چیک اینڈ بیلنس کے لئے صوبائی محتسب کے دفتر میں غیر جانبدار شخص کی تقرری، بدعنوانی کے خاتمے اور ڈیوٹی کے مطابق سرکاری دفتر کے ہموار کام کے لئے گورنر سندھ کے اختیارات خود لے لئے ہیں۔ اس ایکٹ کے تحت وزیر اعلی نے خود کو اختیار دیا ہے کہ وہ اپنی انتظامیہ کے ماتحت محکموں میں ہونے والی بدعنوانی کی روک تھام کے لئے صوبائی محتسب کی تقرری کریں جو قانون کے اصول، آئین، قدرتی انصاف کے اصول اورعام شقوں کے ایکٹ کے خلاف ہے اور بالکل غیر قانونی و غیر آئینی ہے۔

درخواست گزار نے عدالت سے استدعا کی کہ وہ دفتر برائے محتسب برائے صوبہ سندھ (ترمیمی) ایکٹ 2020 کو غیر آئینی اور غیر قانونی قرار دے اور مدعا کو سندھ اسمبلی میں اس ایکٹ کی منظوری، کارروائی اور بحث پیش کرنے کی ہدایت کی جائے ۔ جواب دہندگان، ان کے نوکروں، ایجنٹوں، ماتحت افراد اور ان کے تحت دعوے کرنے والے کسی بھی شخص کو اس ناجائز ایکٹ 2020 پر عمل درآمد اور مزید کارروائی کرنے سے بھی روکا جائے۔

عدالت نے پاسبان کو جواب الجواب جمع کرانے کی ہدایت کے ساتھ سماعت 28 اکتوبر 2020 تک ملتوی کردی۔ سماعت کے بعد میڈیا چوک پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے پاسبان کے چیئرمین الطاف شکور نے کہا کہ سندھ کے تقریبا تمام ادارے اور انفرا اسٹرکچر تباہ ہو گیا ہے۔ ایسے میں وزیر اعلی سندھ نے صوبائی محتسب کے اختیارات ایک ایکٹ کے تحت چھین لئے تا کہ کرپشن کرنے اور چھپانے میں مزید آسانی رہے ۔

چیف منسٹر اور سندھ حکومت چونکہ خود کرپشن میں ملوث ہیں اس لئے ان کا مقرر کردہ محتسب کس طرح انہیں چیک کر کے ان کی کرپشن ختم کروا سکتا ہے کس طرح ان پر ہاتھ ڈال سکتا ہی پاکستان پیپلز پارٹی نے صوبائی حکومت کے محکموں کی خراب حکمرانی اور بد انتظامی پر نگہبانی کی حیثیت سے خدمات انجام دینے والے واحد قابل عمل ادارے کو کنٹرول کرنے کے لئے یہ ناپاک ترمیم کی جو خالصتابدنیتی پر مبنی ہے ۔ پاسبان کے وکیل عرفان عزیز ایڈووکیٹ نے کہا کہ یہ ترمیم ایک آزاد ادارہ کی قانونی اور نظریاتی اساس کے برخلاف ہے۔ یہ عمل عدلیہ کو ایگزیکٹو کے نیچے لانے کے مترادف ہے۔ جبکہ عدلیہ آئینی و قانونی طور پر ایگزیکٹو سے الگ ہے ۔