والدین اور طلبا تعلیمی اداروں میں داخلہ سے قبل اس کے منظور شدہ ہونے کی تصدیق لازمی کرلیں، ایچ ای سی

پیر اکتوبر 16:34

والدین اور طلبا تعلیمی اداروں میں داخلہ سے قبل اس کے منظور شدہ ہونے ..
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 05 اکتوبر2020ء) ہائر ایجوکیشن کمیشن نے والدین اور طلبا سے کہا ہے کہ وہ اپنے بچوں کو تعلیمی اداروں میں داخلے سے قبل یونیورسٹی یا تعلیمی ادارے کے منظور شدہ ہونے کی تصدیق لازمی کرلیں۔ ہائر ایجوکیشن کمیشن کے مطابق ایچ ای سی پاکستان کی تمام منظور شدہ سرکاری اور نجی یونیورسٹیوں/اداروں اور ان کے مخصوص مقامات پر قائم کردہ کیمپسز سے جاری ڈگریوں کی تصدیق کرتا ہے۔

منظور شدہ یونیورسٹیوں اور اداروں ، سرکاری اور نجی اداروں کے منظور شدہ کیمپسز اور غیر قانونی و جعلی اداروں کی فہرست، پاکستان میں غیر ملکی مشترکہ ڈگری جاری کرنے والے منظور شدہ اداروں کی فہرست ایچ ای سی کی ویب سائیٹ پر موجود ہے۔تعلیمی اداروں /یونیورسٹیوں کو کیمپس کے قیام کی اجازت مخصوص مقام کے لئے دی جاتی ہے۔

(جاری ہے)

کوئی بھی ذیلی کیمپس، برانچ آئوٹ پوسٹ جو کہ ایچ ای سی کی منظوری کے بغیر قائم کی گئی ہو یا ایچ ای سی کی ویب سائیٹ پر موجود فہرست میں شامل نہ ہو، کو غیر منظور شدہ تصور کیا جائے گا اور ایچ ای سی کی جانب سے وہاں سے جاری کی گئی ڈگری کی تصدیق نہیں کی جائے گی۔

کوئی بھی دوسری یونیورسٹی/ادارہ جو کہ ایچ ای سی کی ویب سائیٹ پر منظور شدہ یونیورسٹیوں/اداروں/کیمپسز کی فہرست میں موجود نہیں ہے، کو ایچ ای سی کی جانب سے غیر منظور شدہ اور غیر قانونی سرگرمیوں کا مرتکب تصور کیا جائے گا۔ عوام کے وسیع تر مفاد اور آئندہ داخلہ سیزن کے آغاز کے پیش نظر طلبا اور والدین کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ داخلہ لینے سے پہلے درج بالا لنکس کے ذریعے یونیورسٹی/ادارے کے قانونی طور پر منظور شدہ ہونے کی تصدیق لازمی کرلیں۔

طلبا کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ ایسے اداروں میں داخلہ ہر گز نہ لیں جو ایچ ای سی کی ویب سائیٹ پر منظور شدہ یونیورسٹیوں/اداروں/کیمپسزکی فہرست میں موجود نہیں ہیں۔ ایچ ای سی سے غیر منظور شدہ اداروں/کیمپسز سے جاری ہونے والی ڈگریوں کی تصدیق نہیں کی جائے گی۔ اس کے علاوہ ایچ ای سی نے طلبا اور والدین سے کہا ہے کہ وہ ایسی یونیورسٹیوں/ڈگری جاری کرنے والے اداروں میں داخلہ نہ لیں جن کے داخلوں پر مختلف بے قاعدگیوں کے باعث پابندی عائد ہے۔ تفصیلات ایچ ای سی کی ویب سائیٹ پر موجود ہیں۔

متعلقہ عنوان :