بھارت میں بابری مسجد کی شہادت کے بعد دیگر تاریخی مساجد خطرے میں

دہلی کی جامع مسجد سمیت ملک میں ایسی تین ہزار مساجد ہیں جن کی بنیاد مغل بادشاہوں نے مندروں کو منہدم کر کے رکھی، بی جے پی رہنما کا دعویٰ

Shehryar Abbasi شہریار عباسی جمعہ اکتوبر 00:57

بھارت میں بابری مسجد کی شہادت کے بعد دیگر تاریخی مساجد خطرے میں
اترپردیش (اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 22 اکتوبر2020ء) بھارت میں بابری مسجد کی جگہ مندر کی تعمیر کی اجازت ملنے کے بعد بھارتی عدالتوں میں دیگر مساجد کے خلاف کیسز دائر ہونے شروع ہوگئے ہیں۔ تفصیلات کے مطابق بھارت میں کئی مساجد کے خلاف عدالتوں میں درخواستیں دی گئی ہیں کہ یہ مساجد مندروں کو گرا کر ان کی جگہ پر بنائی گئی ہیں۔ بین الاقوامی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق بھارتی ریاست اتر پردیش کے شہر متھرا کی مقامی عدالت نے کرشن جنم بھومی سے متصل شاہی عیدگاہ مسجد کو ہٹانے کی درخواست سماعت کے لیے منظور کرلی ہے۔

درخواست دہندگان کا دعویٰ ہے کہ یہ مسجد 17ویں صدی عیسوی میں مغل بادشاہ اورنگزیب عالمگیر کے دور میں بھگوان کرشن کی جائے پیدائش پر موجود مندر کے ایک حصے کو منہدم کر کے بنائی گئی تھی۔

(جاری ہے)

رپورٹ کے مطابق گذشتہ ماہ بھی ایک مقامی عدالت میں اس مسجد کو ہٹانے کی درخواست جمع کروائی کی گئی تھی، عدالت نے درخواست کو سماعت سے قبل خارج کر دیا تھا ۔

خبررساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق 1968 میں ہندو اور مسلم فریقین کے درمیان اس زمین کے متعلق سمجھوتہ ہو چکا ہے جس میں یہ طے پایا تھا کہ جتنی جگہ پر مسجد موجود ہے، وہ قائم رہے گی۔ اس کے باوجود گذشتہ تین دہائیوں میں ہندوتوا طاقتیں اس مسجد کو وہاں سے ہٹانے کا مطالبہ کرتی رہی ہیں اور پچھلے ایک سال میں اس مطالبے میں مزید شدت آئی ہے۔ بابری مسجد کی شہادت میں اہم کردار ادا کرنے والے بی جے پی کے سینیئر رہنما ونئے کٹیار نے بابری مسجد شہادت کیس میں بری ہونے کے بعد کہا تھا کہ ان کا اگلا نشانہ کاشی اور متھرا ہیں۔

واضح رہے کہ چھ دسمبر 1992 کو ہزاروں ہندوتوا نظریے سے تعلق رکھنے والے ہندؤوں نے بابری مسجد کو شہید کر دیا تھا۔ مسجد کی شہادت کے بعد ہندوتوا تنظیموں اور ان کے نمائندوں کی طرف سے ’ایودھیا تو صرف جھانکی ہے، کاشی متھرا باقی ہے‘ کا نعرہ بلند کیا جاتا رہا ہے۔ بی جے پی کے سینیئر رہنما اور رکن پارلیمان ساکشی مہاراج نے دعویٰ کیا ہے کہ ملک میں ایسی تین ہزار مساجد ہیں جن کی بنیاد مغل بادشاہوں نے مندروں کو منہدم کر کے رکھی تھی۔

ان کے دعوے کے مطابق اس میں دہلی کی جامع مسجد بھی شامل ہے۔ یاد رہے کہ بھارت میں یہ اقدامات رام جنم بھومی اور بابری مسجد تنازع میں مندر کے حق میں فیصلے، رام مندر کی تعمیر کے لیے بھومی پوجن اور حال ہی میں بابری مسجد شہادت کے معاملے میں تمام ملزمان کے بری ہو جانے کی وجہ سے ہو رہا ہے۔ خیال رہے کہ ابھی اس تحریک کو اتنی مقبولیت حاصل نہیں ہو سکی ہے، جیسا کہ ایودھیا کے معاملے میں دیکھا گیا تھا اور یہ کوئی ضروری نہیں کہ ان معاملات میں بھی ہندوتوا طاقتوں کو ایودھیا جیسی کامیابی ملے۔