گستاخانہ خاکوں کی اشاعت کو عالمی جرم قرار دیا جائی: پیما

بدھ اکتوبر 20:46

گستاخانہ خاکوں کی اشاعت کو عالمی جرم قرار دیا جائی: پیما
کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 28 اکتوبر2020ء) پاکستان اسلامک میڈیکل ایسوسی ایشن (پیما) نے یورپ میں گستاخانہ خاکوں کی اشاعت اور فرانسیسی صدر کے توہین آمیز بیانات کی شدید مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ گستاخانہ خاکوں کی اشاعت کو عالمی جرم قرار دیا جائے۔ تمام اسلامک ممالک نبی اکرمؐ سمیت تمام انبیاء کرام کی گستاخی کے واقعات روکنے کے لیے مشترکہ لائحہ عمل اختیار کریں۔

اظہار رائے کی آزادی کی آڑ میں 2ارب سے زائد مسلمانوں کے جذبات کو مجروح کرنے کی کسی بھی طور حمایت نہیں کی جا سکتی۔ پیما کے صدر ڈاکٹر خبیب شاہد، سیکرٹری جنرل ڈاکٹر ارشد منیر اور اراکین سینٹرل ایگزیکٹو کونسل نے مشترکہ بیان میں کہا کہ یورپ کو تعصب کی عینک اتار کر آپؐ کی زندگی اور تعلیمات کا مطالعہ کرنا چاہیے۔

(جاری ہے)

نبی کریمؐ صرف مسلمانوں ہی کے پیغمبر نہیں بلکہ وہ پوری انسانیت کے لیے رحمت قرار دیئے گئے ہیں۔

آپؐ کی تعلیمات ہی میں پوری دنیا کا امن ، ترقی اور سلامتی مضمر ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت پاکستان اور تمام اسلامی ممالک ، فرانس کے خلاف سفارتی سطح پر سخت احتجاج کریں۔ حکومتی اور عوامی سطح پر فرانس کا معاشی بائیکاٹ کم از کم اقدام ہو سکتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ناموس رسالت تمام مسلمانوں کے لیے انتہائی حساس معاملہ ہے ۔ آپؐ کی شان میں گستاخی کو کسی بھی صورت میں برداشت نہیں کیا جا سکتا ۔ اگر کسی بھی جانب سے نبی اکرمؐ کی شان میں گستاخی کے عمل کو جاری رکھا گیا یا اس کی حوصلہ افزائی کی گئی تو عالمی امن خطرے سے دوچار ہو سکتا ہے۔ عالمی برادری کو اس معاملے کی نزاکت اور اہمیت کو سمجھنا چاہیے۔