ڈی جی آئی ایس پی آر کی جانب سے ابھی نندن کی رہائی سے متعلق وضاحت کے بعد مزید کوئی گنجائش نہیں رہتی،وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی

جمعرات اکتوبر 18:10

ڈی جی آئی ایس پی آر کی جانب سے ابھی نندن کی رہائی سے متعلق وضاحت کے بعد ..
اسلام آباد۔29اکتوبر  (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 29 اکتوبر2020ء) :اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 29 اکتوبر2020ء)وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ ڈی جی آئی ایس پی آر کی جانب سے ابھی نندن کی رہائی سے متعلق وضاحت کے بعد مزید کوئی گنجائش نہیں رہتی۔جمعرات کو اپنے ایک بیان میں وزیر خارجہ نے کہا کہ انہوں نے واضح کیا کہ ٹھوس موقف(Position of strength ) کے ساتھ گفتگو اور چیز ہے جبکہ خوشامدانہ پالیسی اور چیز ۔

میں نے کل بھی واضح کیا تھا کہ ایاز صادق کی گفتگو غیر ذمہ دارانہ تھی،اس غیر ذمہ دارانہ گفتگو کے بعد، بھارت کا وہ ائرچیف جسے ناقص کارکردگی کی وجہ سے ہٹایا گیا اس نے بھی چوڑے ہو کر بیانات دیے ہیں جبکہ پاکستان نے انتہائی ذمہ داری کا مظاہرہ کیا جسے دنیا بھر میں سراہا گیا۔

(جاری ہے)

وزیر خارجہ نے کہا کہ پہلے ہم نے ہندوستان کو سبق سکھایا اور اس کے بعد تناو میں کمی لانے کے لیے اقدامات کیے اسے کہتے ہیں "دانشمندی " ۔

بدقسمتی سے اگر اندر سے ہی ایسی بولیاں بولی جائیں گی تو اس سے سوشل میڈیا پر پاکستان کے خلاف ھرزہ سراءکرنیوالوں کے بیانیے کو تقویت ملے گی جو انتہائی افسوس ناک ہے۔شاہ محمود قریشی نے کہا کہ ان کے وضاحتی بیان سے تو یہی تاثر ملتا ہے کہ ایاز صادق، نہ چاہتے ہوئے کسی اور کے ہاتھوں میں کھیل گئے انہیں ایسا نہیں کرنا چاہیے تھا۔ہندوستان تو پاکستان کو نیچا دکھانے کیلئے ہمیشہ موقعے کی تلاش میں رہتا ہے اگر اس طرح کے بیانات دیے جائیں گے تو وہ یقیناً انہیں استعمال کرے گا۔

میں بس مختصراً یہی کہوں گا کہ ان کا بیان غیر ذمہ دارانہ، ہے جا اور موقع محل سے ہٹ کر تھا۔ایاز صادق کے اس بیان نے پاکستان کی کوئی خدمت نہیں کی بلکہ نقصان پہنچایا ہے۔میں سمجھتا ہوں کہ ہمیں آگے بڑھنا ہے اور اس چیز سے اجتناب کرنا ہے جو غلطی ہو گئی اس کو دہرایا نہ جائے