Live Updates

آخر کار برلن کا نیا ہوائی کُھل گیا

DW ڈی ڈبلیو ہفتہ اکتوبر 19:00

آخر کار برلن کا نیا ہوائی کُھل گیا

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 31 اکتوبر 2020ء) تین جون سن 2012 تاریخ کو نئے برلن ایئرپورٹ کا افتتاح ہونا تھا لیکن ایسا نہیں ہو سکا۔ یہ پہلی مرتبہ نہیں تھا لیکن افتتاح کی یہ تاریخ یادوں میں خاص طور پر محفوظ رہنے کی کئی وجوہات تھیں۔

اس برس افتتاحی تقریب کے لیے بڑے پیمانے پر تیاریاں کر لی گئی تھیں اور مقامی عوامی نشریاتی ادارے rbb نے افتتاح کو براہ راست نشر کرنے کا منصوبہ بھی تیار کر لیا تھا۔

لیکن پھر تمام اقدامات دھرے کے دھرے رہ گئے۔

افتتاح کیوں نہیں ہو سکا؟

افتتاح سے قبل سیاست دانوں اور منصوبے کے ذمہ داروں کے سامنے کچھ آگ بجھانے کے ناکافی انتظامات سمیت کچھ تکنیکی خامیاں رکھی گئیں تو انہوں نے افتتاح یقینی بنانے کے لیے آگ کی نشاندہی سمیت دیگر مسائل کے خودکار نظام کے ساتھ ساتھ سینکڑوں اہلکاروں کو بھرتی کرنے کا فیصلہ کر لیا۔

(جاری ہے)

لیکن برلن کے ایک انتظامی اہلکار نے ایئرپورٹ کے محفوظ ہونے کا سرٹیفیکیٹ جاری کرنے سے انکار کر دیا۔

اس کے بعد معائنہ کاروں نے ایئرپورٹ کی عمارت میں بارہ ہزار کے قریب واضح خامیوں کی نشاندہی کی۔ ان میں ایک آگ سے بچاؤ کے حفاظتی اقدامات کا نہ ہونا بھی شامل تھا۔

اس کے علاوہ خودکار دروازے ناقص اور کھلنے سے قاصر تھے۔ نئے ہوائی اڈے پر بچھائی گئی ایک لاکھ ستر ہزار کلومیٹر طویل تاروں کی تنصیب انتہائی خطرناک انداز میں کی گئی تھی۔

کچھ روشنیوں کے بٹن دبائے ہی نہیں جا سکے اور جو بلب یا ٹیوب لائٹس روشن کیے گئے وہ بند ہی نہیں ہو پا رہی تھیں۔

ان تمام مسائل کو حل کرنے میں خطیر رقم صرف کی گئی اور نو برسوں میں نشاندہی کا مرحلہ مکمل ہوا۔

نیا انٹرنیشنل ایئرپورٹ

حکام کے مطابق اب نیا ہوائی اڈہ مکمل طور پر تیار ہے اور پروازیں اڑان بھر سکتی ہیں۔ نیا ہوائی اڈہ ایسے وقت میں فعال کیا گیا ہے جب دنیا کو کورونا وائرس کی سنگین وبا کا سامنا ہے۔

ہوائی سفر کا سیکٹر شدید مندی کی لپیٹ میں ہے۔

جرمن دارالحکومت برلن کی ایئر ٹریفک میں ستر فیصد گراوٹ رواں برس اگست میں سامنے آ چکی ہے۔ نئے ہوائی اڈے کو سابق مغربی جرمنی کے مقبول سیاستدان اور سابق چانسلر وِلی برانٹ کے نام سے بھی منسوب کیا گیا ہے۔

نیا ہوائی اڈہ ستائیس ملین مسافروں کی آمد و رفت کو سنبھال سکے گا۔ یاد رہے وِلی برانٹ سابقہ مغربی برلن کے میئر بھی تھے اور ایسے بڑے ہوائی اڈے کا خواب انہوں نے بھی دیکھا تھا۔

ٹیگل اور شؤنے فیلڈ ہوائی اڈے

سن 2019 میں برلن کے ٹیگل اور شؤنے فیلڈ ایئرپورٹس کو پینتیس ملین مسافروں کی نقل و حرکت برداشت کرنا پڑی، جو ان ہوائی اڈوں کے حجم سے کہیں زیادہ تھی۔ ٹیگل ایئرپورٹ قدرے بڑا اور شؤنے فیلڈ چھوٹا ہوائی اڈہ ہے۔

یہ دونوں ہوائی اڈے اتنے زیادہ بوجھ کے قابل نہیں تھے۔ سیاحتی صنعت کے ماہرین کا خیال ہے کہ وبا کے باوجود برلن برانڈن برگ ہوائی اڈے پر مسافروں کی آمد بتدریج بڑھتی جائے گی۔

نئے ہوائی اڈے میں توسیع کا عمل بھی شروع کر دیا گیا ہے اور اس پر اضافی 2.3 بلین یورو کی لاگت آئے گی اور توسیعی عمل سن 2030 میں مکمل ہو گا۔

توسیع کے اخراجات برلن اور برانڈن برگ کی ریاستیں برداشت کریں گی۔ ان ریاستوں نے برلن ہوائی اڈے کی آپریٹر کمپنی FBB کی حمایت بھی کی ہے۔ جرمن وزارتِ خزانہ نے تو اسی برس ستمبر میں کہا تھا کہ ایئر پورٹ کے افتتاح سے قبل آپریٹر کمپنی کے دیوالیہ ہونے کا قوی امکان ہے۔

ایک مشکل وقت میں آغاز

نئے ایئرپورٹ سے برلن کے شہریوں کی بے شمار توقعات وابستہ تھیں۔ ایک متحدہ جرمنی کا ہوائی اڈہ جو دنیا کی بڑی اقتصاد کے حامل ملکوں میں سے ایک کے دارالحکومت کا ہو گا، تو یہ ایک شاہکار اور پرشکوہ ہو گا۔

لیکن بد انتظامی کا یہ حال ہوا کہ نیا ہوائی اڈہ مزاق کی علامت بن کر رہ گیا۔ اس کی بنیادی وجوہات میں نا اہل انتظامی اہلکاروں کی فوج اور اور مالی بے ضابطگیاں ہیں۔

ایسا محسوس کیا گیا کہ اس میں شامل اہلکاروں کو کسی انتہائی بڑے پراجیکٹ کو سنبھالنے کی اہلیت اور سُوجھ بُوجھ ہی نہیں تھی۔

منصوبے کا آغاز

اس منصوبے کا آغاز ماضی کی دونوں جرمن ریاستوں کے انضمام اور دیوار برلن کے مِسمار ہونے کے بعد سن 1990 میں ہوا۔

ابتدا میں صرف مقام کے انتخاب میں چھ برس صرف کر دیے گئے۔ تعمیر کا سنگ بنیاد رکھنے میں مزید ایک دہائی ضائع ہو گئی۔

پرائیویٹ سرمایہ کار صورت حال کو بھانپ کر تتربتر ہو گئے۔ اس کے علاوہ اس کے لیے حاصل کردہ خصوصی کوڈ BBI (برلن برانڈنبرگ انٹرنیشنل) کو بھی تبدیل کرنا پڑا اور ان یہ بی ای آر (BER) بن گیا ہے۔ مرکزی ٹھیکیدار کمپنی کے علاوہ تعمیراتی عمل میں شریک کئی کمپنیوں کو دیوالیے کا سامنا کرنا پڑا۔

ولیم نوآ گلوکرافٹ (ع ح، ش ح)

کرونا وائرس کی دوسری لہر سے متعلق تازہ ترین معلومات