بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں لوکل الیکشن کا انعقاد

DW ڈی ڈبلیو ہفتہ نومبر 17:40

بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں لوکل الیکشن کا انعقاد

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 28 نومبر 2020ء) یہ الیکشن آٹھ مراحل میں ہوں گے اور انیس دسمبر تک جاری رہیں گے۔ تقریباً چھ ملین ووٹرز حق رائے دہی کے اہل ہیں۔ پورے خطے میں 2,146 پولنگ اسٹیشن قائم کیے گئے ہیں۔ الیکشن کمشنر کے کے شرما نے لوگوں سے اپیل کی ہے کہ وہ اپنا حق رائے دہی استعمال کریں۔ کونسل کے منتخب ارکان کو قانون سازی کا اختیار حاصل نہیں ہو گا مگر وہ معاشی سرگرمیوں اور پبلک ویلفیئر کی ذمہ داریاں سنبھالیں گے۔

سکیورٹی خدشات

کشمیر میں اس موقع پر انتظامیہ نے سخت سکیورٹی اقدامات نافذ کیے ہوئے ہیں۔ پولنگ اسٹیشنز کےگرد اسٹیل کی روکاوٹیں اور خار دار تار نصب ہیں۔ انتخابات کے دوران کشمیر میں کئی ہزار بھارتی فوجیوں کی اضافی نفری بھی تعینات کی گئی ہے۔

(جاری ہے)

بھارت کا کہنا ہے کہ خطے میں ترقی اور شہری مسائل کے حل کے لیے ضروری ہے کہ مقامی سطح پر انتخابات کرائے جائیں۔

تاہم بھارت کے زیر انتطام کشمیر میں علیحدگی پسند لیڈرز اور مسلح باغی گروہ کشمیر میں کرائے جانے والے انتخابات کا بائیکاٹ کرتے ہیں اور انتخابات کو بھارتی فوج کے زیر سایہ ہونے والی ایک غیر قانونی سرگرمی قرار دیتے ہیں۔

انتخابات کا بائیکاٹ

بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کی قوم پسند بھارتیہ جنتا پارٹی نےاس مسلم اکثریتی خطے میں پر زور انتخابی مہم چلائی ہے تاکہ کچھ عرصہ قبل تک بھارت نواز مقامی پارٹیوں کو شکست دی جا سکے جنہوں نے آپس میں ایک اتحاد بنایا ہوا ہے۔

ان جماعتوں نے مودی حکومت کے بھارتی زیر انتظام کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت کو ختم کرنے کے فیصلے کی بھرپور مخالفت کی۔ اس فیصلے کے تحت کشمیر کی نیم خودمختار حیثت ختم ہو گئی تھی اور کشمیر کو دو وفاقی علاقوں، لداخ اور جموں کشمیر میں تقسیم کر دیا گیا تھا۔ اس فیصلے کے تحت کشمیریوں کو ملازمت اور جائیداد سے متعلق حاصل خصوصی حقوق بھی ختم کر دیے گئے تھے۔

بھارتی زیر انتظام کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت ختم کیے جانے کے بعد بھارتی حکومت نے کسی بھی مزاحمت کا مقابلہ کرنے کے لیے علاقے میں کرفیو نافذ کر دیا تھا ور مواصلاتی نظام بھی بند کر دیا تھا۔ ان اقدامات پر کشمیریوں کی جانب سے شدید غم و غصے کا اظہار کیا گیا تھا۔

مسلح تحریک

کشمیر میں مسلح باغی سن 1989 سے بھارتی حکومت کے ساتھ جنگ میں ہیں۔

کشمیر کی مسلم آبادی کی ایک بڑی تعداد ان مسلح گروہوں کی اس نظریے کی حمایت کرتی ہے کہ یا تو کشمیر کو پاکستان کا حصہ بنا دیا جائے یا اسے ایک الگ ملک بنا دیا جائے۔ نئی دہلی کا الزام ہے کہ کشمیر میں مزاحمت کو پاکستان کی حمایت حاصل ہے۔ پاکستان ان الزمات کو مسترد کرتا ہے۔ اب تک اس تنازعے میں ہزاروں شہری، باغی اور بھارتی فوجی ہلاک ہو چکے ہیں۔

ب ج، ع س