قیدی زیادہ اور سیکیورٹی کم، سینٹرل جیل کراچی میں ناخوشگوار واقعے کے ذمہ دار نہیں ہوں گے، سپرنٹنڈنٹ

جیل میں سیکیورٹی پر 576 کے بجائے صرف 200 اہلکار تعینات ہیں، جیل میں ڈینیئل پرل، سانحہ صفورا کے ملزمان بھی قید ہیں، آئی جی جیل خانہ جات کو خط

بدھ دسمبر 16:12

قیدی زیادہ اور سیکیورٹی کم، سینٹرل جیل کراچی میں ناخوشگوار واقعے کے ..
کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 02 دسمبر2020ء) سپرنٹنڈنٹ سینٹرل جیل کراچی نے خطرے کی گھنٹی بجاتے ہوئے واضح کیا ہے کہ جیل میں کسی بھی قسم کے ناخوشگوار واقع کے ذمہ دار نہیں ہوں گے۔ سینٹرل جیل کراچی کے سپرٹنڈنٹ نے آئی جی جیل خانہ جات سندھ کو خط لکھ کر آگاہ کیا ہے کہ جیل میں سیکیورٹی پر 576 کے بجائے صرف 200 اہلکار تعینات ہیں۔تفصیلات کے مطابق سپرنٹنڈنٹ سینٹرل جیل کراچی نے آئی جی جیل خانہ جات سندھ کو خط لکھاہے ، جس میں کہاہے کہ کراچی سینٹرل جیل میں ناخوشگوار واقعے کے ذمہ دار نہیں ہوں گے۔

لکھے جانے والے خط میں کہا گیا ہے کہ سینٹرل جیل میں ڈینیئل پرل، سانحہ صفورا کے ملزمان بھی قید ہیں۔ خطرناک ملزموں کی ملاقاتوں کے دوران بھی نگرانی کا عملہ کافی نہیں ہوتا۔

(جاری ہے)

کراچی کی حساس ترین سینٹرل جیل میں قیدی زیادہ ہیں، سیکیورٹی کم ہے۔ جیل پولیس کی 576 آسامیوں میں سے 277 خالی پڑی ہیں۔5 سال سے جیل انتظامیہ کی بھرتیوں کی درخواستیں نظرانداز کی گئیں ہیں۔

سینٹرل جیل کراچی کی سیکیورٹی پر 576 اہلکار مامور ہونے چاہئیں۔ اس وقت صرف 200 اہلکار سیکیورٹی کی ذمہ داری نبھارہے ہیں۔ذرائع کے مطابق سینٹرل جیل کراچی کی انتظامیہ نے اپنے خط میں آئی جی جیل خانہ جات سندھ کو مشورہ دیا ہے کہ 277 خالی آسامیوں پر فوری بھرتیاں کی جائیں۔واضح رہے کہ38ایکڑ پر محیط سینٹرل جیل کراچی 57 بیرکس اور 215 سیلز پر مشتمل ہے۔ جیل میں 2400 قیدی رکھنے کی گنجائش ہے، جیل میں گنجائش سے 70 گنا زیادہ 4000 قیدیوں کو رکھا گیا ہے۔

متعلقہ عنوان :