پنجاب پولیس کے اہلکار نے گھر میں گھس کر بیٹے کے سامنے خاتون کو زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا

چھیڑ چھاڑ سے منع کرنے پر ملزم نے گن پوائنٹ پر پڑوسی خاتون کی عزت لوٹ لی، پولیس اپنے پیٹی بند بھائی کو گرفتار کرنے سے گریزاں

muhammad ali محمد علی بدھ جنوری 23:51

پنجاب پولیس کے اہلکار نے گھر میں گھس کر بیٹے کے سامنے خاتون کو زیادتی ..
بہاولنگر (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 20 جنوری2021ء) پنجاب پولیس کے اہلکار نے گھر میں گھس کر بیٹے کے سامنے خاتون کو زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا، چھیڑ چھاڑ سے منع کرنے پر ملزم نے گن پوائنٹ پر پڑوسی خاتون کی عزت لوٹ لی، پولیس اپنے پیٹی بند بھائی کو گرفتار کرنے سے گریزاں۔ تفصیلات کے مطابق عوام کی محافظ پولیس لوگوں کی حفاظت کرنے کی بجائے ان کی عزتوں پر ہاتھ ڈالنے لگی، پنجاب کے ضلع بہاولنگر میں خاتون کو بیٹے کے سامنے زیادتی کا نشانہ بنانے کا دلخراش واقعہ رپورٹ ہوا ہے۔

متاثرہ خاتون نے پولیس کے ہاں درج کروائی گئی شکایت میں موقف اختیار کیا ہے کہ ملزم ایک پولیس اہلکار ہے جو اس کے پڑوس میں رہتا ہے۔ ملزم اکثر اس کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کرتا تھا، جس پر اسے منع کیا۔ چھیڑ چھاڑ سے منع کرنے پر ملزم پولیس اہلکار ایک دن اس کے گھر میں گھس گیا اور پھر بیٹے کے سامنے اسے گن پوائنٹ پر زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا۔

(جاری ہے)

متاثرہ خاتون نے الزام عائد کیا ہے کہ پولیس اپنے پیٹی بند بھائی کو گرفتار کرنے سے گریزاں ہت۔

نیملزم کے خلاف مقدمہ تو درج کرلیا گیا لیکن اسے گرفتار نہیں کیا گیا، مقدمہ درج ہونے کے باوجود ملزم پولیس اہلکار دندناتا پھر رہا ہے۔ خاتون کے الزامات پر پولیس کا موقف ہے کہ ملزم نے عبوری ضمانت حاصل کر رکھی ہے۔ خاتون کی ڈی این اے رپورٹ آنا باقی ہے، رپورٹ موصول ہونے کے بعد اس کے تحت مزید کارروائی عمل میں لائی جائے گی، میرٹ پر تفتیش کر کے متاثرہ خاندان کو انصاف فراہم کیا جائے گا۔

واضح رہے کہ ملک میں گزشتہ چند ماہ کے دوران رپورٹ ہونے والے جنسی زیادتی کیس کی شرح میں تشویش ناک حد تک اضافہ ہوا ہے۔ لاہور میں موٹروے زیادتی کیس کے بعد ملک بھر میں عوام نے ایک مہم شروع کی جس میں مطالبہ کیا گیا کہ جنسی زیادتی ملزمان کو سرعام پھانسی یا سخت ترین سزائیں دی جائیں۔ وزیراعظم اور کئی وزراء نے بھی اس مطالبے کی حمایت کی۔ کچھ روز قبل جنسی زیادتی کے بڑھتے واقعات کی روک تھام کیلئے وفاقی کابینہ نے’’کسٹریشن قانون‘‘ فوری نافذ کرنے کی منظوری دی۔

کابینہ ارکان نے اتفاق کیا کہ کسٹریشن کی سزا کیلئےعالمی اداروں سے رائے لینے یا آمادگی کی ضرورت نہیں۔ ارکان نے رائے دی کہ بچوں اور خواتین سے زیادتی کے ملزمان رعایت کے مستحق نہیں۔