نوجوانوں میں تمباکو کا استعمال ، کینسر میں اضافہ کا باعث ہے ،کاشف مرزا

جمعرات فروری 16:48

کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 04 فروری2021ء) عالمی کینسر ڈے کے موقع پر اسپارک کے کمیونیکیشن منیجر کاشف مرزا، پروجیکٹ منیجر شمائلہ مزمل ، فیلڈ منیجر حارث جدون نے اپنے ایک پیغام میں کہا ہے کہ تمباکو کے استعمال اور سگریٹ کے دھویں کو کینسر کی ایک بڑی وجہ سمجھا جاتا ہے ۔ ماہرین صحت کے مطابق لوگوں خاص کر بچوں میں تمباکو کی مصنوعات کے استعمال سے نیگوٹین کی لت، پھیپڑوں کی خرابی، قلبی نقصان اور دمے کا خطرہ رہتا ہے ۔

تمباکو کو طویل مدتی استعمال کینسر میں اضافے کا باعث ہے ۔ 2020ء میں عالمی ادارہ صحت کے اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں کینسر کے 178388 نئے کیسز سامنے آئے ہیں ۔ ان میں پھیپڑوں کا کینسر 5.9 فیصد کیسوں کے ساتھ تیسرے نمبر پر رہا۔ کینسر سے ہونے والی 117149 اموات میں پھیپڑوں کے کینسر کا حصہ 7.9 فیصد تھا۔

(جاری ہے)

اس بیماری سے آگاہی دلانے کے لئے ہر سال 4 فروری کو عالمی سطح پر کینسر کا دن منایا جاتا ہے ۔

ارباب اختیار کو چاہیے کہ وہ اس سلسلہ میں تمام احتیاطی تدابیر جس میں تمباکو نوشی کی ترغیب دینے کو روکنا ، تعلیمی اداروں کے 50میٹر کے دائرے میں تمباکو کی مصنوعات کی فروخت کو روکنا اور کم عمر نوجوانوں کو تمباکو کی مصنوعات فروخت نہ کرنا شامل ہیں۔ نوجوان نسل کو بچانے کیلئے حکومتوں کو اس حوالے سے سخت اقدامات لینا ہوں گے اور سول سوسائٹی کو بھی اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔