مہران شوگرمل کے جبری برطرف کئے گئے دل کے مریض مزدور نے نوکری پر بحالی کے لئے احتجاج کے دوران زہریلی گولیاں کھا کر خودکشی کی کوشش

پیر فروری 23:59

حیدرآباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 22 فروری2021ء) مہران شوگرمل کے جبری برطرف کئے گئے دل کے مریض مزدور نے نوکری پر بحالی کے لئے حیدرآباد پریس کلب پر احتجاج کے دوران مبینہ طور پر زہریلی گولیاں کھا کر خودسوزی کی کوشش کی موقع پر موجود پولیس اہلکاروں نے اسے پکڑ کر گولیاں چھین لیں، متاثرہ مہتاب علی نوحانی نے کہاکہ کئی روز سے معصوم بچوں کے ہمراہ احتجاج کررہا ہوں اس نے بتایا کہ وہ اپنے والد کے انتقال کے بعد فوتی کوٹے پر مہران شگر مل ٹنڈو محمد خان میں دس سال قبل بھرتی ہوا اور نوکری ایمانداری سے کررہا تھا کہ دل کے مرض کی وجہ سے دو روز کی چھٹی کی جس کے واپس شگر مل گیا تو مینئجر راؤ محمد شبیر نے کہاکہ تم نوکری چھوڑ دو میں تمھیں پانچ لاکھ اروپے پینشن دینے کے لئے تیار ہوں جس سے میں نے انکار کردیاجس کے بعدمجھے زبانی طو ر پرنوکری سے برطرف کردیا گیا ایک ماہ بعد نوکری سے نکالنے کا نوٹیفکیشن جاری کردیامجھ غریب سے ناجائز ہے اس نے کہاکہ نوکری نہ ہونے کے باعث معصوم بچے بھوک کا شکار ہیں جبکہ میں بیمار ہوں اس عمل کے خلاف سندھ ہائی کورٹ میں درخواست دائر کردی ہے لیکن انصاف نہ ملنے پر دلبرداشتہ ہوکر میں خودکشی کی کوشش کی میں سخت پریشان ہوں انصاف فراہم کیاجائے نوکری پر بحال کیاجائے کینٹ پولیس کے اہلکار مزدور مہتاب کو اپنے ہمراہ لے گئے ۔