کرنٹ اکاﺅنٹ خسارہ بھی حکومت کے قابو سے باہر ہوگیا

درآمدات میں اضافے سے جنوری میں کرنٹ اکاﺅنٹ خسارہ 22 کروڑ 90 لاکھ ڈالر رہا

Mian Nadeem میاں محمد ندیم منگل فروری 13:24

کرنٹ اکاﺅنٹ خسارہ بھی حکومت کے قابو سے باہر ہوگیا
کراچی(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-ا نٹرنیشنل پریس ایجنسی۔23 فروری ۔2021ء) ملک میں مسلسل دوسرے ماہ جنوری میں کرنٹ اکاﺅنٹ خسارہ 22 کروڑ 90 لاکھ ڈالر رہا جس کی بنیادی وجہ درآمدات میں اضافہ ہے اور یہ حکومت کے لیے اچھا شگون نہیں ہے کیونکہ وہ اسے صفر پر لانے کے لیے کوشاں ہے رپورٹ کے مطابق ماہانہ بنیادوں پر کرنٹ اکاﺅنٹ خسارہ دسمبر 2020 کے 65 کروڑ 20 لاکھ ڈالر سے 64.84 فیصد سکڑ گیا .

(جاری ہے)

تاہم مالی سال 21-2020 کے پہلے 7 ماہ کے لیے کرنٹ اکاﺅنٹ 92 کروڑ 10 لاکھ ڈالر کے ساتھ مثبت ہے تاہم ہر ماہ سرپلس کے ساز میں کمی ہورہی ہے واضح رہے کہ مالی سال 20 کے 7 ماہ میں کرنٹ اکاﺅنٹ خسارہ اڑھائی ارب ڈالر تھا جبکہ پورے مالی سال 20 میں یہ 2 ارب 97 کروڑ ڈالر ریکارڈ کیا گیا تھا حکومت 2018 میں 20 ارب ڈالر کا کرنٹ اکاﺅنٹ خسارے کو کم کرتے ہوئے رواں سال سرپلس میں لانے میں کامیاب ہوئی تھی لیکن رجحان یہ ظاہر کر رہا ہے کہ مالی سال 21 کے آخر تک کرنٹ اکاﺅنٹ منفی ہوسکتا ہے.

اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ درآمدات میں اضافہ ہوا لیکن برآمدات اس تجارتی فرق کو ختم کرنے کے اس حد تک نہیں بہتر ہوسکیں، اعداد و شمار کے مطابق رواں مالی سال کے 7 ماہ میں برآمدات گزشتہ سال کے اسی عرصے کی 14 ارب 44 کروڑ 60 لاکھ ڈالر کے مقابلے میں معمولی سی کم ہوکر 13 ارب 89 کروڑ 70 لاکھ ڈالر تک دیکھی گئیں تاہم درآمدات میں مزید اضافہ ہوا اور یہ مالی سال 21 کے 7 ماہ میں 27 ارب 63 کروڑ 90 ارب ڈالر کو پہنچ گئیں جو گزشتہ سال کے اسی عرصے میں 26 ارب 4 کروڑ 40 لاکھ ڈالر تھیں زیر جائزہ عرصے میں مال کی تجارت پر بیلنس 13 ارب 74 کروڑ 20 لاکھ ڈالر کا خسارہ میں رہا جو گزشتہ سال کے اسی عرصے میں 11 ارب 59 کروڑ 80 لاکھ ڈالر کا خسارہ تھا.

اسٹیٹ بینک کے مطابق مال اور خدمات کی تجارت پر بیلنس گزشتہ سال کے 13 ارب 49 کروڑ 10 لاکھ ڈالر کے خسارے کے مقابلے 14 ارب 87 کروڑ 50 لاکھ ڈالر کے خسارے پر ریکارڈ کیا گیا ادھر حکومت کی جانب سے برآمدات کو بڑھانے کے لیے مختلف مراعات فراہم کی جارہی ہیں لیکن اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ یہ ترقی سست ہے اور ابھی تک گزشتہ مالی سال کے مقابلے کم ہے مزید یہ کہ ٹیکسٹائل ملک کے لیے برآمدات کا 55 سے 60 فیصد حاصل کرکے دیتی ہے لیکن کپاس کی پیداوار کی بدترین کارکردی نے صنعت کو بری طرح متاثر کیا ہے.

ٹیکسٹائل ملرز کہتے ہیں کہ رواں مالی سال کے آخر تک کپاس کی درآمدات کی لاگ 3 ارب ڈالر تک ہوسکتی ہے جس کا مطلب ہے کہ تجارتی فرق مزید بڑھے گا اور بالاآخر کرنٹ اکاﺅنٹ منفی میں جاسکتا ہے، اب تک ٹیکسٹائل ملرز ایک ارب ڈالر سے زائد مالیت کی کپاس درآمد کرچکے ہیں مالیاتی ماہرین کا کہنا ہے کہ جنوری کا خسارہ دسمبر کے خسارہ (65 کروڑ 20 لاکھ ڈالر) سے کم تھا، اگر خسارہ ہر ماہ 20 سے 25 کروڑ ڈالر کے درمیان رہتا ہے تو مالی سال 21 کے اختتام تک کرنٹ اکاﺅنٹ خسارہ صفر یا نہ ہونے کے برابر ہوسکتا ہے وہ کہتے ہیں کہ اگر ملک ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ سے باہر آجاتا ہے تو غیرملکی سرمایہ کاری اور برآمدات دونوں بڑھیں گی اور اس سے رواں مالی سال کے لیے ملک کو کرنٹ اکاﺅنٹ سرپلس میں رکھنے میں مدد ملنے کا امکان ہے.