مہنگائی کے بوجھ تلے دبی عوام پر ایک اور بوجھ ڈالنے کی تیاریاں

موٹر سائیکلوں اور کاروں کے لیے پٹرول مہنگا کرنے پر غور شروع کر دیا گیا

Sumaira Faqir Hussain سمیرا فقیرحسین منگل فروری 16:53

مہنگائی کے بوجھ تلے دبی عوام پر ایک اور بوجھ ڈالنے کی تیاریاں
لاہور (اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔ 23 فروری 2021ء) : پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کے پہلے ڈھائی سال میں مہنگائی میں روز بروز اضافہ ہوا اور عوام کو کوئی ریلیف نہیں مل سکا۔ آئے روز اشیائے خوردو نوش کی قیمتوں میں ہونے والے اضافے نے عوام کی کمر توڑ کر رکھ دی ہے جبکہ بجلی ، گیس اور پٹرول کی قیمتوں میں اضافے نے بھی سونے پر سہاگے کا کام کیا جس سے عوام موجودہ حکمران جماعت سے مزید مایوس ہو گئی ہے۔

تاہم اب مہنگائی میں پستی ہوئی عوام پر مزید بوجھ ڈالنے کی تیاریاں شروع کر دی گئی ہیں۔ تفصیلات کے مطابق پنجاب ماس ٹرانزٹ اتھارٹی کی اورنج لائن ٹرین اور میٹروبس پر حکومتی سبسڈی کم کرنے کے لیے عوام پر گیسولین ٹیکس عائد کرنے کی تجویز پیش کر دی ہے جس کے تحت شہریوں سے فی لیٹر پٹرول پر 1 سے 2 روپے فی لیٹر گیسولین ٹیکس وصول کیا جائے گا۔

(جاری ہے)

ماس ٹرانزٹ اتھارٹی نے پبلک ٹرانسپورٹ کو پروموٹ کرنے کی انوکھی منطق دیتے ہوئے تجویز پیش کی جس کے تحت لاہور شہر کی حدود میں پیٹرولیم مصنوعات کے نام پر شہریوں سے نیا ٹیکس وصول کرنے کی سفارشات حکومت کو ارسال کردی گئی ہیں۔

ان سفارشات میں لاہور شہر میں پٹرول 1 سے 2 روپے فی لیٹر تک مہنگا کرکے شہریوں سے گیسولین ٹیکس وصول کیا جانے کی تجویز پیش کی گئی ہے۔ اس حوالے سے میڈیا ذرائع نے بتایا کہ گیسولین ٹیکس کے تحت پیٹرول پمپ کا رُخ کرنے والے ہر شہری کو پیٹرول 1 سے 2 روپے اضافی قیمت پر ملے گا۔ ماس ٹرانزٹ اتھارٹی کی جانب سے یہ ٹیکس لاہور، راولپنڈی اور ملتان شہر میں عائد کرنے کی تجویز پیش کی گئی ہے جس کا مقصد شہریوں کو پبلک ٹرانسپورٹ کے استعمال پر مائل کرنا اور حکومت کے سبسڈی کی مد میں ہونے والے اخراجات میں کمی کرنا ہے۔

اس حوالے سے نجی ٹی وی چینل سے بات کرتے ہوئے دوسری جانب جی ایم ماس ٹرانزٹ اتھارٹی عزیر شاہ نے کہا کہ بین الاقوامی طرز پر یہ ٹیکس لینے کی ابھی صرف تجویز پیش کی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس سے قبل بھی لاہور، ملتان اور راولپنڈی میں گیسولین ٹیکسز کے نفاذ کے لیے سفارشات حکومت کو ارسال کی گئی تھیں، تاہم ان سفارشات پر تاحال کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ اگر یہ ٹیکس عائد کرنے کا فیصلہ کیا گیا تو اس ٹیکس سے سالانہ ایک ارب روپے سے زائد کی رقم وصول کر کے حکومت کا ماس ٹرانزٹ پر سبسڈی کی مد میں آنے والے اخراجات کا بوجھ ختم ہو سکتا ہے۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ اعدادوشمار کے مطابق حکومت ماس ٹرانزٹ سروسز پر سالانہ 12 ارب روپے سے زائد کی سبسڈی دے رہی ہے جس میں صرف اورنج لائن ٹرین پر 8 ارب روپے کی سبسڈی ہے۔

دوسری جانب یہ خبر سامنے آنے پر حکمران جماعت مزید تنقید کی زد میں آ گئی ہے کیونکہ اس ٹیکس کے عائد ہونے کی صورت میں شہریوں پر سالانہ ایک سے ڈیڑھ ارب روپے کا اضافی بوجھ پڑے گا اور عوام مزید مہنگائی کی چکی میں پس جائے گی ۔ اس معاملے پر عوام کی جانب سے ممکنہ رد عمل کے باعث حکومت کی مشکلات میں مزید اضافے کا امکان بھی ظاہر کیا جا رہا ہے ۔