ترقی یافتہ ممالک نے زرعی و اقتصادی ترقی کے لئے تعلیم و تحقیق کے اداروں اور انڈسٹریل سیکٹر کے باہمی اشتراک سے شرح نمو میں جو مثالی اضافہ کیا ہے اسے اپنائے بغیر ملکی اقتصادیات و زراعت کو جدید خطوط پر استوار نہیں کیا جا سکتا

ان باتوں کا اظہار زرعی یونیورسٹی فیصل آباد کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر آصف تنویر نے یونیورسٹی کے شعبہ ایگرانومی اور اینگرو فرٹیلائزر کے تعاون سے منعقدہ ایک روزہ سیمینار سے بطور مہمان خصوصی اپنے خطاب کے دوران کیا

منگل فروری 17:36

ترقی یافتہ ممالک نے زرعی و اقتصادی ترقی کے لئے تعلیم و تحقیق کے اداروں ..
فیصل آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 23 فروری2021ء) ترقی یافتہ ممالک نے زرعی و اقتصادی ترقی کے لئے تعلیم و تحقیق کے اداروں اور انڈسٹریل سیکٹر کے باہمی اشتراک سے شرح نمو میں جو مثالی اضافہ کیا ہے اسے اپنائے بغیر ملکی اقتصادیات و زراعت کو جدید خطوط پر استوار نہیں کیا جا سکتا۔ ان باتوں کا اظہار زرعی یونیورسٹی فیصل آباد کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر آصف تنویر نے یونیورسٹی کے شعبہ ایگرانومی اور اینگرو فرٹیلائزر کے تعاون سے منعقدہ ایک روزہ سیمینار سے بطور مہمان خصوصی اپنے خطاب کے دوران کیا۔

انہوں نے کہا کہ بڑھتی ہوئی آبادی کی غذائی ضروریات کو پورا کرنے کے لئے زرعی شعبے کی پیداواریت کو دوگنا کرنا ہو گی اور اس مقصد کے لئے تحقیق و ترقی سے وابستہ پبلک و پرائیویٹ شعبہ جات کا اشتراک عمل وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی نے دنیا کے تمام ممالک کو مختلف چیلنجز سے دوچار کر دیا ہے جس سے عہدہ برآء ہونے کے لئے مشترکہ کاوشیں بروئے کار لانا ہوں گی۔

انہوں نے مزید کہا کہ ہمارے لئے موسمیاتی تغیر کے ساتھ ساتھ بیج کی موسم سے مطابقت کے حوالے سے جینیاتی تنوع پر نئی جدتوں کو متعارف کرانا سب سے اہم ہے جس کے لئے یونیورسٹی سمیت مختلف اداروں کو آگے بڑھنا ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ بدقسمتی سے پاکستان اپنی ملکی ضروریات کا 90فیصد سبزیات کا بیج درآمد کرتا ہے جو کہ پلانٹ بریڈنگ اور جینیاتی سائنس سے وابستہ ماہرین کے لئے ایک لمحہ فکریہ ہے۔

چیئرمین شعبہ ایگرانومی پروفیسر ڈاکٹر شہزاد مقصود احمد بسرا نے کہا کہ کاشتکاری فی زمانہ غیرمنافع بخش عمل ہے جسے منفعت بخش بنانے کے لئے ہائی ویلیو فصلات کے ساتھ ساتھ ویلیوایڈیشن اور پوسٹ ہارویسٹ ٹیکنالوجی کے ذریعے نئے امکانات سے آراستہ کرنا ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ اینگرو جیسے بین الاقوامی شہرت کے حامل اداروں کو زراعت سے وابستہ سرکاری تحقیق و ترقی کے اداروں کے ساتھ مل کر مشترکہ پیش رفت یقینی بنانا ہو گی اور آج کا سیمینار اس سلسلہ کی ایک اہم کڑی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہمارے ملک میں 90فیصد سے زائد چھوٹے کسانوں پر مشتمل ہے جنہیں جدید ٹیکنالوجی سے آراستہ کرنے کے لئے حکومتی سطح پر لائحہ عمل مرتب کرنا ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ دنیا بھر میں جدید زرعی ٹیکنالوجی کی ترقی چھوٹے کسانوں کی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے کی جاتی ہے لہٰذا پاکستان میں زرعی ترقی کے لئے چھوٹے کسانوں کو ان جدتوں سے ہمکنار کرنے پر بھرپور توجہ دینا ہوگی۔

اینگرو فرٹیلائزر لمیٹڈ کے پراجیکٹ ڈائریکٹر پی اے وی ای عابد الیاس نے بتایا کہ اس منصوبے کے تحت اب تک 4500 چھوٹے کسانوں کو جدید خطوط پر زیور تربیت سے آراستہ کیا جا چکا ہے جس کی وجہ سے 25سو چھوٹے کسان جدید مصدقہ بیج استعمال کرنے کی طرف راغب ہو چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ PAVE، اینگرو کا مقصد پاکستان میں چاول، گندم اور سبزیوں کی بیج ویلیو چین تیار کرنا ہے۔

ڈاکٹر فہد رسول نے کہا کہ آب و ہوا میں ہونے والی تبدیلیاں نہ صرف لوگوں کی زندگی بلکہ زراعت کے شعبے میں بھی تباہی کا باعث بن رہی ہیں۔ انہوں نے شرکا پر زور دیا کہ وہ ملک میں غذائی تحفظ کے لئے اپنی تحقیقی کوششیں تیز کر دیں۔ انہوں نے کہا کہ اس ملک کو چار موسموں، زرخیز زمین اور قدرتی وسائل سے نوازا گیا ہے جسے متناسب استعمال کے ذریعے نہ صرف نچلی سطح پر غربت کے خاتمے کے لئے استعمال کیا جا سکتا ہے بلکہ برآمدات کی صورت میں کثیر زرمبادلہ بھی حاصل کیا جا سکتا ہے۔