مقبوضہ کشمیر میں حقوق انسانی کا دفاع کرنے والوں اور صحافیوں کے خلاف کالے قوانین و این آئی اے کے صوابدیدی استعمال پر گہری تشویش ہے ، اقوام متحدہ

منگل فروری 21:44

جنیوا (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - آن لائن۔ 23 فروری2021ء) اقوام متحدہ نے بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر میں بھارت کی جانب سے حقوق انسانی کا دفاع کرنے والوں اور صحافیوں کے خلاف کالے قوانین و این آئی اے کے صوابدیدی استعمال پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے ۔ کشمیر میڈیا سروس کے مطابق اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندوں کی سات رکنی ٹیم کی جانب سے بھارتی حکومت لکھے گئے ایک خط میں کہا گیا ہے کہ غیر قانونی سرگرمیاں روک تھام ایکٹ جب کسی شخص کو دہشتگرد قرار دیا جاتا ہے تو اسکی چھ ماہ تک نا قابل ضمانت تلاشیوں اور انفرادی گرفتاریوں کا مجاز ہے ۔

(جاری ہے)

مزید یہ کہ اس کا وسیع دائرہ کار اسے آسانی سے استعمال کرنے کے قابل بناتا ہے ۔ خط میں کہا گیا ہے کہ اس قانون کا مقصد صحافیوں اور حقوق انسانی کے کارکنوں کو تحفظ فراہم کرنا تھا تاہم نئی دہلی وادی میں اس قانون کا غلط استعمال کر رہا ہے ۔ خط میں کہا گیا ہے کہ مذکورہ کارروائیوں کے علاوہ انسانی حقوق کے عالمی اعلامیے کے آرٹیکل بارہ اور شہری اور سیاسی حقوق سے متعلق بین الاقوامی معائدے کے آرٹیکل سترہ کی بھی خلاف ورزی ہو رہی ہے جسکی دس مئی 1979 کو بھارتی حکومت نے توثیق کی تھی جسکے تحت گھر و خط و کتابت سمیت نجی معاملات میں صوابدیدی مداخلت پر پابندی ہے ۔