ندی میں چھلانگ لگا کر خود کشی کرنے والی عائشہ کا کیس نیا رخ اختیار کر گیا

شوہر عارف ایک بدکردار شخص نکلا، دوسری لڑکی سے ناجائز تعلقات قائم کر رکھے تھے،سسرال سے پیسے لے کر گرل فرینڈ پر خرچ کرتا تھا، خود کشی سے قبل عائشہ کے حاملہ ہونے کا بھی انکشاف

muhammad ali محمد علی جمعہ مارچ 20:13

ندی میں چھلانگ لگا کر خود کشی کرنے والی عائشہ کا کیس نیا رخ اختیار کر ..
نئی دہلی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 05 مارچ2021ء) ندی میں چھلانگ لگا کر خود کشی کرنے والی عائشہ کا کیس نیا رخ اختیار کر گیا۔ تفصیلات کے مطابق بھارت میں ایک مسلمان شادی شدہ لڑکی کی جانب سے ندی میں کود کر خود کشی کیے جانے کا معاملہ عدالت میں پہنچنے کے بعد مکمل طور پر نیا رخ اختیار کر گیا۔ بھارتی میڈیا کے مطابق عدالت میں ہوئی عائشہ خود کشی کیس کی سماعت کے دوران متوفی کے وکیل کی جانب سے تہلکہ خیز انکشافات کیے گئے۔

وکیل نے بتایا کہ عائشہ کا شوہر ایک بدکردار شخص ہے جس نے راجھستان سے تعلق رکھنے والی لڑکی سے ناجائز تعلقات قائم کر رکھے تھے۔ عارف اپنی بیوی عائشہ کے سامنے اس لڑکی سے ویڈیو کال پر بات کرتا اور بیوی کو ذہنی ذیت پہنچاتا تھا۔ بات صرف ناجائز تعلقات کی ہی نہیں، بلکہ عارف اپنے سسرال والوں کو بھی بلیک میل کر رہا تھا۔

(جاری ہے)

عارف اپنے سسرال والوں سے پیسے لیتا اور پھر یہ پیسا گرل فرینڈ پر لٹاتا تھا۔

عائشہ کے اہل خانہ بیٹی کی خاطر خاموشی سے داماد کو پیسے دیتے رہے۔ اس تمام معاملے میں عائشہ کو اپنے سسرال والوں کے تشدد کا بھی سامنا کرنا پڑا۔ عارف کے اہل خانہ عائشہ کو تشدد کا نشانہ بناتے اور جہیز کا مطالبہ کرتے تھے۔ یہ انکشاف بھی ہوا کہ خود کشی سے قبل عائشہ حاملہ ہوئی تھی، تاہم شوہر کی جانب سے دی جانے والی اذیت کے باعث حمل ضائع ہوگیا۔

مزید بتایا گیا ہے کہ پولیس عائشہ کے شوہر کو گزشتہ روز گرفتار کر چکی۔ واضح رہے کہ گذشتہ ہفتے سے بھارت میں سسرال والوں کے طعنوں سے تنگ آ کر نوجوان لڑکی نے ندی میں کود کر خودکشی کر لی تھی، لڑکی کی خودکشی سے قبل بنائی گئی ویڈیو سوشل میڈیا پر اب بھی وائرل ہے۔

جبکہ گزشتہ روز عائشہ کی ایک اور ویڈیو سامنے آئی ہے جس میں وہ والدین سے گفتگو کر رہی ہے۔

ویڈیو میں سنا جا سکتا ہے کہ عائشہ اپنے والدین سے گفتگو کر رہی ہیں جس میں والدین اسے انتہائی قدم اٹھانے سے روک رہے ہیں۔

عائشہ کے والد کا کہنا تھا کہ میری بات سنو بیٹا جس پر عائشہ کہتی ہیں کہ مجھے کچھ نہیں سننا پاپا،والد نے کہا کہ بیٹا امی سے بات کرو،والدہ بھی اپنی بیٹی کو خودکشی کرنے سے روکنے کا کہہ رہی ہیں،وہ کہتی ہیں کہ اگر تم ایسا قدم اٹھاؤ گی تو لوگ کہیں گے تم قصور وار سمجھیں گے، اس پر عائشہ کہتی ہے کہ جسے جو چاہئیے بولنا ہے بولنے دیں۔

میں بس تھک چکی ہوں اپنی زندگی کا خاتمہ کرنا چاہتی ہوں۔والدین عائشہ کو خودکشی سے روکنے کے لیے وعدے قسمیں دیتے رہتے ہیں۔لیکن وہ کہتی ہے کہ وہ زندگی سے تنگ آ چکی ہے،اگر بچ گئی تو وہ اسے لینے آ جائیں ورنہ تدفین کر دیں۔ اس تمام معاملے کے حوالے سے عائشہ کے والد لیاقت علی کا کہنا ہے کہ 2018 میں بیٹی کی شادی عارف خان سے کی تھی، شادی کے دو ماہ بعد عارف کا کسی لڑکی سے کچھ معاملہ تھا، بیٹی کو جب یہ پتا چلا تو اس نے اپنے سسرل والوں کو اس سے آگاہ کیا، سسرال والوں نے بیٹے سے پوچھ گچھ کرنے کی بجائے عائشہ کو ہی پریشان کرنا شروع کردیا اور مزید جہیز کا مطالبہ کرنے لگے۔

عائشہ کے والد لیاقت مکرانی کا کہنا تھا کہ ان کی بیٹی تعلیم یافتہ اور سمجھ دار تھی، وہ نوکری بھی کررہی تھی اسی دوران 25 فروری کو 72 منٹ تک اس نے اپنے شوہر عارف سے بات کی۔انہوں نے کہا کہ شوہر سے بات کرنے کے بعد بیٹی نے ہمیں فون کیا، ہم نے اسے خودکشی کرنے سے بہت روکا لیکن اس نے ہماری ایک نہ سنی اور ندی میں کود کر خودکشی کرلی۔