Live Updates

”پچھلے سال جو سستا تیل خریدا تھا، وہی استعمال کرو“

سعودی حکومت نے مودی سرکار کو جھاڑ پلا دی، بھارت نے خام تیل کی پیداوار میں کمی نہ کرنے کی درخواست کی تھی تاکہ قیمتوں میں اضافہ نہ ہو

Muhammad Irfan محمد عرفان ہفتہ مارچ 12:47

”پچھلے سال جو سستا تیل خریدا تھا، وہی استعمال کرو“
ریاض(اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔6 مارچ2021ء) تیل پیدا کرنے والے ممالک کی تنظیم اوپیک کی جانب سے خام تیل کی پیداوار میں کمی کا اعلان کر دیا گیا ہے جس کے بعد عالمی مارکیٹ میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ ہو گیا ہے۔ بھارت کی جانب سے اوپیک سے اپیل کی گئی تھی کہ پیداوار میں کمی نہ کی جائے کیونکہ اس سے قیمتوں میں اضافہ ہو جائے گا۔ تاہم سعودی عرب کی جانب سے بھارتی حکومت کو اس معاملے پر صاف انکار کر دیا گیا ہے۔

سعودی وزیر برائے انرجی شہزادہ عبدالعزیز بن سلمان نے بھارت سے کہا ہے کہ پچھلے سال جو تیل انتہائی کم داموں پر خریدا گیا تھا، بھارتی حکومت اسے کیوں استعمال نہیں کر رہی۔ بھارتی وزیر آئل دھرمیندرا پردھان نے جمعرات کے روز اوپیک حکام سے درخواست کی تھی کہ تیل کی پیداوار میں کمی نہ کی جائے تاکہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ نہ ہو سکے۔

(جاری ہے)

بھارتی وزیر تیل کی اس درخواست کے جواب میں سعودی وزیر برائے انرجی شہزادہ عبدالعزیز بن سلمان نے اوپیک پلس کے فیصلے کے بعد ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ نئی دہلی نے پچھلے سال جو خام تیل انتہائی کم داموں پر خریدا تھا، گوداموں میں موجود اس تیل کے ذخیرے کو ہی استعمال میں لایا جائے۔ انہوں نے کہا ”جہاں تک بھارت کی بات ہے تو اس کا سادہ سا جواب ہے۔

میں اپنے دوست سے کہوں گا کہ انہوں نے گزشتہ سال اپریل، مئی اور جون میں جو خام تیل بہت ہی معمولی نرخوں پر خریدا تھا، وہ اسے استعمال میں لائیں۔اس سستے داموں خریدے گئے تیل کو باہر نکالنے کا یہی بہترین موقع ہے۔“بھارت نے اپریل مئی 2020ء میں 16.71 ملین بیرل خام تیل خریدا تھا جس کے بعد اس کے آندھرا پردیش، منگلور اور کرناٹکا کے شہر پڈور میں واقع تینوں سٹریٹجک پٹرولیم ریزروز مکمل طور پر بھر گئے تھے۔

کورونا وبا کے دوران معاشی بحران کے دنوں میں خام تیل کی قیمتیں بُری طرح گر کر صرف 19 ڈالر فی بیرل پر آ گئی تھیں۔ جس کا بھارت نے بڑی مقدار میں سستے داموں ذخیرہ کر کے خوب فائدہ اٹھایا تھا۔ گزشتہ ہفتے وزیر تیل پردھان نے بتایا تھا کہ کورونا وبا کے بعد معیشت بحالی کی جانب بڑھنے کے بعد خام تیل کی طلب میں بہت زیادہ اضافہ ہو گیا ہے۔ اس لیے بھارت کو کم داموں پر تیل خریدنے کی ضرورت ہے۔ اوپیک کی جانب سے تیل کی پیداوار میں کمی کے بعد اب خام تیل کی قیمت ایک فیصد اضافے کے بعد 67.44 ڈالر فی بیرل ہو گئی ہے۔ اوپیک کا اتحادی اوپیک پلس گروپ بھی اپریل کے مہینے میں خام تیل کی پیداوار نہ بڑھانے پر راضی ہو گیا ہے تاکہ تیل کی گرتی ہوئی معیشت اور قیمتوں کو سہارا دیا جا سکے۔
پاکستان میں کرونا وائرس کی تیسری لہر سے متعلق تازہ ترین معلومات