وفاقی حکومت کی یقین دہانی پر سپریم کورٹ نے 11 پاکستانی ہندووں کے بہیمانہ قتل سے متعلق کیس نمٹا دیا

ٰیہ انتہائی سنگین معاملہ ہے، حکومت کے پالیسی میٹرز میں مداخلت نہیں کر سکتے، جسٹس عمر عطاء بندیال

جمعرات جون 20:39

وفاقی حکومت کی یقین دہانی پر سپریم کورٹ نے 11 پاکستانی ہندووں کے بہیمانہ ..
اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - آن لائن۔ 10 جون2021ء) سپریم کورٹ نے بھارت میں 11 پاکستانی ہندووں کے بہیمانہ قتل سے متعلق کیس وفاقی حکومت کی یقین دہانی پر نمٹا دیا ہے۔عدالت عظمیٰ نے اپنے حکم میں قرار دیا ہے کہ وفاقی حکومت نے وزارت خارجہ کے ذریعے معاملے کی تحقیقات کی یقین دہانی کرائی۔حکومت کے پالیسی میٹرز میں عدالت مداخلت نہیں کرتی،وزارت خارجہ کے مطابق معاملے کو سنجیدگی سے دیکھ رہے ہیں۔

کیس کی سماعت جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نیکی۔دوران سماعت وکیل درخواست گزار سید قلب حسن نے دلائل دئیے کہ چاہتے ہیں کہ وفاقی وزیر خارجہ بھارت سے اس معاملے پر بات کریں، جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ معاملے میں عدالت کیا کر سکتی ہی وکیل درخواست گزار کے وکیل نے کہا کہ عدالت وفاق کو ہدایات جاری کرے یہ انتہائی سنگین معاملہ ہے، جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دئیے یہ پالیسی میٹر ہے عدالت اس میں کوئی ہدایت نہیں دے گی،وکیل درخواست گزار نے موقف اپنایا کہ ان کا ایک بندہ غائب ہو تو اتنا واویلا کرتے ہیں ہمارے 11 شہری قتل ہو گئے، بھارت سے لوگ بیساکھی میلوں پر پاکستان آتے ہیں،حالات ایسے ہی رہے تو دونوں ممالک میں کشیدگی مزید بڑھے گی،دفتر خارجہ اس معاملے پر معمول کی کاروائی کر رہا ہے۔

(جاری ہے)

بھارت میں اہل خانہ کے قتل کیخلاف شرمتی مکھنی نے سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا۔عدالت عظمیٰ نے معاملہ پر وفاقی حکومت کی یقین دہانی کے بعد کیس نمٹا دیا ہے۔۔۔۔۔توصیف