بجٹ میں کوئی نیا ٹیکس نہیں لگایا گیا،مجموعی طور پر بجٹ خوش آئند ہے‘ ایف پی سی سی آئی

ٹرن اوور کی ویلیو طے کرنے کی تجویز پر بھی مان لی گئی ہے۔الٹرنیٹو ڈسپوٹ رزولیشن کمیٹی کا بہت مسئلہ تھا جس پر عمل کیا گیا ہے حکومت سے درخواست ہے اے ڈی آر سی سے متعلق کئے گے اعلان کے مطابق فوری نوٹیفیکیشن جاری کرے‘ عہدیداروں کی پریس کانفرنس

ہفتہ جون 20:14

بجٹ میں کوئی نیا ٹیکس نہیں لگایا گیا،مجموعی طور پر بجٹ خوش آئند ہے‘ ..
لاہور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 12 جون2021ء) فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (ایف پی سی سی آئی)کے صدر میاں ناصر حیات مگوںنے کہا ہے کہ بجٹ میںکوئی نیا ٹیکس نہیں لگایا گیا،مجموعی طور پر بجٹ خوش آئند ہے،ٹرن اوور کی ویلیو طے کرنے کی تجویز پر بھی مان لی گئی ہے۔الٹرنیٹو ڈسپوٹ رزولیشن کمیٹی کا بہت مسئلہ تھا جس پر عمل کیا گیا ہے اوراے ڈی سی آر اب 60دن میں فیصلہ کرنے کی پابند ہو گا،حکومت سے درخواست ہے کہ اے ڈی آر سی سے متعلق کئے گے اعلان کے مطابق فوری نوٹیفیکیشن جاری کرے۔

سینئر نائب صدر خواجہ شاہ زیب اکرم، ریجنل چیئرمین چوہدری محمد سلیم بھلر،سابق صدر میاں انجم نثار، نائب صدرو اطہر سلطان چاولہ،عدیل صدیقی،حنیف لاکھانی،عرفان اقبال شیخ،محمد علی میاں اور دیگر رہنمائوں نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آئی ٹی انڈسٹری کو زیرو ریٹڈکیا ہے جو بہت ہی اچھا اقدام ہے،اس سے ایکسپورٹ میں اضافہ ہو گا۔

(جاری ہے)

اکنامک زون سے صنعتوں کو فروغ ملے گا۔ بجٹ میں بجلی کی قیمتوں میں کمی نہیں کی گی ہے جس کی وجہ سے کاروبار کی لاگت میں کمی نہیں آئے گی۔کسٹمز ڈیوٹیز، ریگولیٹری ڈیوٹیز اور خام مال پر عائد ٹیکسز میں کمی کا اعلان کیا ہے۔لیکن محصولات کے جو اہداف رکھے ہیں اس سے متعلق کچھ نہیں بتایا گیا کہ یہ کس طرح پورے کئے جائیں گے، سب ٹیکسز کہاں سے اکٹھے کیئے جائیں گی.ہمارا مطالبہ ہے کہ تمام سٹیک ہولڈرز کو اعتما د میں لے کر پالیسز بنائی جائے۔

ٹیکس نیٹ کو بڑھانے کو کوئی بھی لائحہ عمل پیش نہیں کیا گیا ہے۔عام آدمی کے لئے کوئی ریلیف نہیں دیا گیا۔حکومت ایف پی سی سی آئی کی مشاورت سے 30جون سے قبل ٹیکس کو سادہ فارم تیار کرئے۔مولیسس کو اتھونل بنانے کے لیے خام مال کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔اس پر 15فیصد ریگولیٹری ڈیوٹی عائد ہے۔تاکہ ویلیو ایڈیشن کر کے زیادہ زر مبادلہ کمایا جا سکیں۔

15فیصد ریگولیٹری ڈیوٹی ختم نہیں ہو نی چاہیے۔انہوں نے مزید کہاکہ ہم یہ نہیں چاہتے کہ دو ماہ بعد ایک منی بجٹ آئے اور ٹیکسز کھل کر سامنے آئیں۔کل تک جو خوش آئند بات کہی کہ ٹیکس آڈٹ نہیں ہوگالیکن اب تفصیلات میں سامنے آیا ہے کہ 203دفعہ عائد کردی ہی.اس کے مطابق جس کو جہاں مرضی گرفتار کرنے کا اختیار ہوگا۔پہلے سے ٹیکس گزاروں کی پکڑ دھکڑ کا سلسلہ شروع رہے گا۔

بجائے اس کے جو ٹیکس ادا نہیں کررہے ان کو پکڑا جائی.اس کے برعکس جو ٹیکس ادا کررہا ہے ان کو ہی نشانہ بنایا گیا ہے۔ان پر ہی مزید بوجھ ڈالا گیا ہے۔انہوں نے مزید کہاکہ ایف بی آر کو پابند کیا جاتا کہ ٹیکس نیٹ بڑھایا جائے۔ جو ٹیکس ادا کررہے ہیں ان پر مزید بوجھ ڈالا جا رہا ہے جو ٹیکس نہیں دیتا اس کو کھلی چھٹی دی گئی ہے۔جو ٹیکس نہیں دے رہا اس پر کوئی پالیسی نہیں دی گئی۔

ایف بی آر کو نیب کی طرز پر اختیار دیا گیا ہے کہ وہ شک کی بنیاد پر بھی گرفتار کر سکتے ہیں۔ اس فیصلے کو فوری طور پر ختم کیا جائے۔ جو ٹیکس دے رہا ہے اسی کو گرفتار کرنے سے ٹیکس نیٹ کیسے بڑھے گا۔چائے کو پوائنٹ آفس سیل میں ڈال کر اس پر ود ہولڈنگ عائد کیا گیا ہے۔اب چینی کو بھی پوائنٹ آف سیل میں ڈال دیا ہے۔غریب آدمی کیلئے کوئی ریلیف نہیں دیا گیا۔

چینی کو بھی شیڈول تھری میں ڈال دیا ہے کہ پرچون فروخت پر بھی ٹیکس ہوگا جس سے چینی مزید مہنگی ہو گی۔چائے کیلئے متعدد بار تجویز دی لیکن اس پر ٹیکس لگا دیا گیا ہے۔ایف بی آر کو کوئی ہدف یا کام نہیں دیا گیا کہ ٹیکس نیٹ میں اضافہ کرئے۔اگر ایف بی آر نئے ٹیکس گزار تلاش نہیں کرسکتا تو اس کو بند کردیں۔اور ٹیکس ہدف ہمیں بتا دیں ہم بزنس کمیونٹی ٹیکس اکٹھا کرکے دیدیں گے۔

ودہولڈنگ میں ہم نے خاطر خواہ کمی کا مطالبہ کیا تھا لیکن اس میں بھی کوئی زیادہ حوصلہ افزا کمی نہیں ہوئی۔بجلی کی قیمتوں میں کمی کی طرف کوئی توجہ نہیں دی گی۔اس سے پیدواری لاگت کسی صورت کم نہیں ہوگی۔ زراعت کیلئے کوئی خاص فنڈز نہیں رکھے گئے۔فوڈ سکیورٹی اور خوراک کی بہتری اور کی قیمتوں میں کمی کیلئے زراعت میں جدت ضروری ہے۔لیکن زراعت کی ریسرچ اینڈ ڈیولپمنٹ میں سنجیدگی کا مظاہرہ نہیں کیا گیا۔

ایف بی آر کے افسران کی اے سی آر میں درج ہونا ضروری ہے کہ اس نے کتنے نئے ٹیکس پیئرز ٹیکس نیٹ میں شامل کئے ہیں۔کیونکہ ہم نہیں چاہتے کہ کچھ لوگ ٹیکس دیں،بوجھ اٹھائیں اور کچھ لوگ ٹیکس ادا ہی نہ کریں۔کھادوں اور دیگر زراعت کی مصنوعات کو سستا کرنے کی ضرورت ہے۔ دکانوں کے لئے فیکس ٹیکس کی تجویز کو بھی نظر انداز کیا گیا ہے۔تعمیرات کے شعبہ کو دی گئی سبسیڈی کو 31دسمبر تک بڑھایا جائے۔