اسٹیٹ بینک نے پاکستانی برآمد کنندگان کو مصنوعات بیچنے میں سہولت دینے کے لیے فریم ورک تجویز کردیا

پیر جون 20:46

اسٹیٹ بینک نے پاکستانی برآمد کنندگان کو مصنوعات بیچنے میں سہولت دینے ..
کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 14 جون2021ء) اسٹیٹ بینک نے بین الاقوامی ڈجیٹل مارکیٹوں میں پاکستانی برآمد کنندگان کو مصنوعات بیچنے میں سہولت دینے کے لیے فریم ورک تجویز کردیا۔بینک دولت پاکستان نے زر مبادلہ ضوابط کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے ایجنڈے کو جاری رکھتے ہوئے پاکستان سے مصنوعات کی برآمد کے لیے ضوابطی ہدایات میں تبدیلیاں تجویز کی ہیں۔

ان تبدیلیوں کا مقصد موجودہ ہدایات کو سادہ بنا کر کاروبار کرنے کی آسانی کو فروغ دینا ہے۔ اہم ترین مجوزہ ترامیم میں بزنس ٹو بزنس ٹو کنزیومر ای کامرس ماڈل کے تحت پاکستانی برآمد کنندگان کو اپنی مصنوعات بین الاقوامی ڈجیٹل مارکیٹس بشمول امیزون، ای بے، علی بابا کے ذریعے فروخت کرنے میں سہولت دینے کا فریم ورک شامل ہے۔

(جاری ہے)

’پاکستان سنگل ونڈو پراجیکٹ‘ پر عملدرآمد کے لیے برآمدی ضوابط میں درکار ترامیم، جن سے الیکٹرانک فارم ای کی شرط ختم ہوجائے گی، بھی نظر ثانی شدہ مسودے کا حصہ ہیں۔

اسی طرح بعض دوسرے شعبوں میں یہ تجویز کیا گیا ہے کہ اسٹیٹ بینک سے درکار ضوابطی منظوری کی شرط کو بینکوں کو سونپ دیا جائے تاکہ کاروباری طبقے کو سہولت ملے۔مجوزہ ترامیم اسٹیٹ بینک کے وسیع تر ایجنڈے کا حصہ ہیں، جس کا مقصد موجودہ زرمبادلہ ضوابط پر نظرثانی کرنا ہے، تاکہ یہ منڈی کی تغیر پذیر حرکیات، کاروباری ضروریات اور عالمی تجارت کی روایات سے ہم آہنگ ہوسکیں۔ اس عمل کے دوران بینکاری صنعت اور کاروباری برادری کی مشاورت کے بعد زرمبادلہ مینوئل کے 11 ابواب (22 ابواب میں سی) پر پہلے ہی نظرثانی کی جاچکی ہے۔ زرمبادلہ سے متعلق ہدایات میں حالیہ ترامیم برآمدات سے متعلق ہیں، جو زرمبادلہ مینوئل کے باب 12 میں دی گئی ہیں۔