چھوٹی گاڑی خریدنے کے خواہشمند افراد کیلئے بڑی خوشخبری

حکومت نے چھوٹی گاڑیوی پر سیلز ٹیکس میں کمی کے بعد وڈ ہولڈنگ ٹیکس ختم کرنے کا بھی اعلان کر دیا، چھوٹی گاڑیوں کی قیمت میں بڑی کمی کا امکان

Danish Ahmad Ansari دانش احمد انصاری منگل جون 22:41

چھوٹی گاڑی خریدنے کے خواہشمند افراد کیلئے بڑی خوشخبری
اسلام آباد (اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 15 جون2021ء) چھوٹی گاڑی خریدنے کے خواہشمند افراد کیلئے بڑی خوشخبری، حکومت نے چھوٹی گاڑیوی پر سیلز ٹیکس میں کمی کے بعد وڈ ہولڈنگ ٹیکس ختم بھی کرنے کا اعلان کر دیا، چھوٹی گاڑیوں کی قیمت میں کمی کا امکان- تفصیلات کے مطابق وفاقی حکومت بجٹ 2021-2022 میں چھوٹی گاڑیوں پر وڈ ہولڈنگ ٹیکس ختم کردیا اور ساتھ ہی سیلز ٹیکس بھی 17 فیصد سے کم کرکے ساڑھے 12 فیصد کردیا، جس سے 850 سی سی گاڑیوں کی قیمتوں میں کم از کم ڈیڑھ لاکھ روپے تک کمی ہوگی۔

آٹو سیکٹر ماہرین کا کہنا ہے کہ وفاقی حکومت کی رعایت کے بعد 850 سی سی گاڑیوں کی قیمت میں ایک لاکھ روپے تک کمی آئے گی تاہم حتمی فیصلہ کار ساز کمپنیاں ہی کرے گیں۔ موٹر ڈیلرز کا کہنا ہے کہ ان کی تجاویز پر عمل کرکے حکومت پرانی گاڑیوں کی امپورٹ پالیسی میں نرمی کرے تو گاڑیوں کی قیمتوں میں مزید کمی کی جاسکتی ہے اور ان تجاویز پر عمل کرنے سے نہ صرف ٹیکس ریونیو بڑھے گا بلکہ گاڑیوں کی قیمتوں میں نمایاں کمی آسکتی ہے۔

(جاری ہے)

آل پاکستان موٹر ڈیلرز ایسوسی ایشن کے چیئرمین ایچ ایم شہزاد نے اے آر وائی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ حکومت نے ٹیکس میں ساڑھے 4 فیصد کرکے اپنے خزانے میں کمی کی ہے، ڈالر وزیر اعظم عمران خان کی کاوشوں سے 170 سے 154، 153 روپے تک آیا لیکن اتنی کمی کے باوجود کار ساز کمپنیوں نے گاڑیوں کی قیمتوں میں کمی نہیں کی۔ انہوں نے کہا کہ یہ کمپنیاں ڈالر کی قیمت میں ایک روپے اضافے پر بھی گاڑیوں کی قیمتوں میں اضافہ کردیتی ہیں لیکن 16، 17 روپے کمی پر گاڑیوں کی قیمتیں کم نہیں کرتیں، حکومت کو چاہیے کہ پہلے جو قیمتیں ڈالر کی قدر میں اضافے پر بڑھائی گئی تھیں انہیں کم کروائے۔

ایچ ایم شہزاد کا کہنا تھا کہ اگر حکومت یہ اقدام اٹھا لیتی تو وفاقی بجٹ میں سیلز ٹیکس میں ساڑھے فیصد کمی کی ضرورت پیش نہ آتی۔ انہوں نے اے آر وائی کو بتایا کہ کار ساز کمپنیاں ایک مافیا ہیں جنہوں نے حکومت کے اعلان کے باوجود اپنی قیمتوں میں کمی نہیں کی جس کے باعث حکومت کو اپنے خزانے میں کمی کرنی پڑی، اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ مافیا کتنا مضبوط اور طاقتور ہے جو حکومتی احکامات پر بھی عمل نہیں کرتا۔

ایچ ایم شہزاد نے تجویز دی کہ وزیر خزانہ شوکت ترین کو چاہیے تھا کہ وہ کمپنیوں کو پابند کرتے کہ حکومت نے ٹیکس میں کمی کی ہے لہذا کمپنیاں اب گاڑیوں کی قیمتوں میں اضافہ نہ کریں۔ چیئرمین آل پاکستان موٹر ڈیلرز ایسوسی ایشن کا کہنا تھا کہ حکومت کے اس اقدام سے گاڑیوں کی قیمتوں میں سوا سے ڈیڑھ لاکھ روپے کمی ہوگی۔ انہوں نے بتایا کہ اگر حکومت گاڑیوں کی امپورٹ پر ہماری تجاویز پر عمل درآمد کرلے تو آج بھی تین سے پانچ سال پرانی استعمال شدہ جاپانی گاڑی 8 سے 10 لاکھ میں فروخت ہوسکتی ہے۔

ٰخیال رہے کہ حکومت نے میری گاڑی اسکیم متعارف کروادی ، آئندہ مالی سال کے بجٹ میں 850 سی سی اور اس سے کم کی گاڑیوں پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی ختم اور جنرل سیلز ٹیکس 17 سے کم کر کے 12اعشاریہ 5 فیصد کرنے کی تجویز رکھی گئی ہے ، مجوزہ ایف ای ڈی کا خاتمہ اور جی ایس ٹی میں کمی صرف پاکستان میں تیار ہونے والی گاڑیوں پر لاگو ہوں گے، جب کہ غیر ملکی موٹر کاروں کی درآمد پر صرف ود ہولڈنگ ٹیکس ختم کرنے کی تجویز بجٹ میں رکھی گئی ہے، مذکورہ تجاویز کی قومی اسمبلی سے منظوری کی صورت میں 850 سی سی تک پاکستان میں بننے اور در آمد ہونے والی گاڑیوں کی قیمتیں اس سال یکم جولائی سے کم ہوں گی اور 30 جون 2022 تک برقرار رہیں گی، اس کے علاوہ الیکٹرک گاڑیوں کے لیے ٹیکس کی چھوٹ دے دی گئی ہے جب کہ پہلے سے بننے والی گاڑیوں اور نئے ماڈلز کو ایڈوانس کسٹم ڈیوٹی سے استثنیٰ قرار دے دیا گیا۔