امریکی محکمہ زراعت اور پاکستان کی کوششوں سے کپاس کے پتّا مروڑ وائرس کا تدارک

بدھ جولائی 13:26

امریکی محکمہ زراعت اور پاکستان کی کوششوں سے کپاس کے پتّا مروڑ وائرس ..
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 14 جولائی2021ء) ریاستہائے متحدہ امریکہ کے محکمہ زراعت (یو ایس ڈی اے) اور پاکستان میں خشک زمینوں میں تحقیق کے بین الاقوامی مرکز ( آئی سی اے آر ڈی اے) نے کپاس کی پیداوار میں اضافہ کے پروگرام (سی پی ای پی) کے ذریعہ کپاس کی دیکھ بھال میں دس سال سے جاری بہترین تحقیقاتی کامیابیوںں کا جشن منایا۔ یہ منصوبہ نے پاکستان میں کپاس کی پیداوار اور تجاررت کی شاندار ترقی کا باعث بناہے۔

اس موقع پر منعقد ہونے والی  تقریب کے دوران سرگرمی میں شامل ساٹھ شراکت داروں کی کوششوں کا اعتراف کرتے ہوئے امریکی ادارہ برائے بین الاقوامی ترقی (یو ایس ایڈ) کی مالی معاونت سے یو ایس ڈی اے اور آئی سی اے آر ڈی اے کی مشترکہ زیر نگرانی جاری  دس سالہ منصوبہ کی تکمیل کا اعلان کیا گیا۔

(جاری ہے)


واضح رہے کہ کپاس پاکستان کی اہم ترین فصل ہے تاہم ۱۹۹۰ء  کی دہائی میں کپاس کے پتّا مروڑ وائرس کے موذی نباتاتی مرض نے پیداوار کو قابل تشویش حد تک محدود کر دیا تھا۔

سی پی ای پی پر عملدرآمد سے وائرس تشخیص پر توجہ اور اُس کے پھیلاؤ کی نگرانی کے لیے لیبارٹری قائم کی گئی جبکہ کپاس کی کاشت کے موسم کے دوران چھوٹے قصبوں میں کپاس کے کاشتکاروں خصوصی طور پر خواتین کیلئے فصل کی پیداوار میں اصافہ کی خاطر بہترین نظم و نسق پر مرکوز تربیتی سرگرمیاں منعقد کی جاتی رہیں۔ اس دوران محققین نے پتّا مروڑ وائرس سے قوت مدافعت کے حامل بیج بھی تیار کیئے۔


منصوبہ سے منسلک امریکی تحقیقی ٹیم کی سربراہ ڈاکٹر جوڈی شیفلر نے اس موقع پر کہا کہ  آئی سی اے آر ڈی اے اور نیشنل انسٹی ٹیوٹ برائے بائیوٹیکنالوجی اور جینیاتی انجینئرنگ  جیسے اہم سائنسی اداروں کی فراہم کرہ مدد کی وجہ سے  اس منصوبہ  کے ذریعہ  امریکہ اور پاکستان کے مابین سائنسی معلومات کا تبادلہ ممکن ہوا  جس سے کپاس کے چھوٹے کاشتکاروں کو معاشی تحفظ فراہم ہوا  اور یہ مستقبل میں خود امریکہ میں بھی پتّا مروڑ وائرس کے سدِباب کا وسیلہ بنے گا۔
منصوبہ کی کامیاب تکمیل سےپاکستانی کاشکاروں کو وائرس سے محفوظ بیج تک رسائی حاصل ہوئی ہے اور حکومت سے منظوری کے بعد مزید اقسام بازاروں میں دستیاب ہوں گی ۔