دبئی کے ہوٹل میں ایک بہت خطرناک ویڈیو بنی ہے

ایک شخصیت دبئی کے ہوٹل میں جاتی ہے،ہوٹل کے کمرے میں ملاقات کی ویڈیو بنی جو سامنے آنے سے طوفان مچ جائے گا۔سینئر صحافی محمد مالک کا دعویٰ

Muqadas Farooq مقدس فاروق اعوان بدھ 1 دسمبر 2021 12:53

دبئی کے ہوٹل میں ایک بہت خطرناک ویڈیو بنی ہے
لاہور(اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔ یکم دسمبر 2021ء) : سینئر صحافی محمد مالک نے دعویٰ کیا ہے کہ دبئی کے ہوٹل میں ایک بہت خطرناک ویڈیو بنی ہے۔ انہوں نے اپنے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے مزید کہا کہ ویڈیوز کا موسم آ گیا ہے،ہم بہت خطرناک خبریں سن رہے ہیں کہ دبئی کے اندر بھی ایک ویڈیو بنی ہوئی ہے،کوئی ہوٹل میں جاتا ہے وہاں ملاقات ہوتی ہے اور پھر وہاں پر اہم شخصیت کی ملاقات کی ویڈیوز بنائی گئی ہیں۔

اگر وہ ویڈیوز سامنے آتی ہیں تو پھر طوفان مچے گا۔انہوں نے مزید کہا کہ ویڈیوز سامنے لانے کا کام تو اگرچہ سیاسی پارٹیوں نے کیا لیکن اس کی زد میں باقی لوگ بھی آئیں گے۔اسی حوالے سینئر صحافی عارف حمید بھٹی کا کہنا ہے کہ وزیراعظم ہاؤس کے کچن کی ویڈیو بھی موجود ہے۔جب نوازشریف پہلی بار وزیراعظم بنے تھے اُس وقت کی بھی ایک ویڈیو موجود ہے۔

(جاری ہے)

وہ ویڈیو وزیراعظم ہاؤس کے کچن کی ہے۔انہوں نے ویڈیو سے متعلق کہا کہ ویڈیو میں بندہ صحت مند ہے اور ساتھ کوئی اور ہے۔
عارف حمید بھٹی نے مزید کہا کہ جب سیاستدان عوام کے حق میں کوئی فیصلہ نہ کریں تو پھر اس طرح کا گند ہی سامنے آتا ہے۔مریم نواز کی ایک اور آڈیو بھی سامنے آئی ہے۔ویڈیو کا گیم بہت لمبا ہے۔بلکہ یوں کہہ لیں کہ ابھی تو پارٹی شروع ہوئی ہے۔

ایک ایسی ویڈیو سامنے آئے گی کہ یہ لوگ پریس کانفرنس بھی نہیں کر سکیں گے۔انہوں نے مزید کہا کہ یہ بات میں جاتی امرا میں بننے والی ویڈیو سے متعلق کر رہا ہوں۔جاتی امرا صرف نوازشریف کی رہائش نہیں بلکہ وہاں سے کچھ فاصلے پر بھی ہے۔
۔دوسری جانب سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے آڈیو اور ویڈیو لیک ہونا ملک کی بدقسمتی قرار دیا۔

انہوں نے سماء نیوز کے پروگرام ندیم ملک لائیو میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اگر مریم نواز کی آڈیو میں کوئی غیر قانونی بات ہے تو تحقیقات ہونی چاہئیے۔انہوں نے مزید کہا کہ ہم نے کبھی ووٹ نہیں خریدا، اگر ووٹ خریدنے کی ویڈیو درست ہے تو اس پر بھی کارروائی ہونی چاہئیے۔ مزید کہا کہ ہمارے کابینہ اجلاس چل رہے ہوتے تھے اور باہر خبریں نکل جاتی تھیں جس کی روک تھام کے لیے جیمرزلگانے پڑے تھے۔