Live Updates

پاکستان کی معیشت نسبتاً بہتری کے راستے پر گامزن رہی، اقوام متحدہ

2022 میں جی ڈی پی میں اضافہ 3.9 فیصد رہنے کی توقع ہے، شرح سود میں اضافے کی وجہ کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ اور مہنگائی ہے۔ جی20 ممالک کی طرف سے قرض کی ادائیگی میں پاکستان کو20 فیصد سے کم ریلیف ملا۔ عالمی اقتصادی صورتحال پر رپورٹ

sanaullah nagra ثنااللہ ناگرہ جمعہ 14 جنوری 2022 21:57

پاکستان کی معیشت نسبتاً بہتری کے راستے پر گامزن رہی، اقوام متحدہ
اسلام آباد (اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 14 جنوری 2022ء) اقوام متحدہ نے عالمی اقتصادی صورتحال پر اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ پاکستان کی معیشت نسبتاً بہتری کے راستے پر گامزن رہی، 2022 میں جی ڈی پی میں اضافہ 3.9فیصد رہنے کی توقع ہے،شرح سود میں اضافے کی وجہ کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ اور مہنگائی ہے۔ جی 20ممالک کی طرف سے قرض کی ادائیگی میں پاکستان کو20 فیصد سے کم ریلیف ملا۔

جیو نیوز کے مطابق اقوام متحدہ نے عالمی اقتصادی صورتحال پر رپورٹ جاری کی ہے جس میں کہا گیا کہ پاکستان کی معیشت نسبتاً بہتری کے راستے پر گامزن رہی، 2021 میں پاکستان کی معیشت 4.5 فیصد سے بہتر ہوئی، 2022 میں جی ڈی پی میں اضافہ 3.9 فیصد رہنے کی توقع ہے،معیشت میں نجی طلب، بیرون ملک سے ریکارڈ ترسیلات اور مالی مدد سے بہتری رہی۔

(جاری ہے)

سال کے دوسرے حصے میں مہنگائی کی وجہ سے پاکستان نے شرح سود میں اضافہ کیا۔

شرح سود میں اضافے کی دوسری وجہ بڑھتا ہوا کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ ہے۔ جی 20 ممالک کی قرض معطلی سے پاکستان جیسے ممالک کو مناسب ریلیف نہیں ملا۔قرض کی ادائیگی میں پاکستان کو20 فیصد سے کم ریلیف ملا، 20 فیصد سے کم ریلیف جی ڈی پی کے 1.6فیصد کے برابر ہے۔ پاکستان کی معیشت کیلئے ریونیو بحالی اور کثیرالجہتی مدد کی ضرورت ہے، مرکزی بینک کو تمام شعبوں کی بہتری کیلئے پالیسی میں بروقت تبدیلی کی ضرورت ہے، مرکزی بینک کومالیاتی شعبے اور قیمتوں میں استحکام کیلئے پالیسی بدلنے کی ضرورت ہے۔

 دوسری جانب اسٹیٹ بینک کا کہنا ہے کہ مالی سال 2022 کی پہلی ششماہی میں ترسیلات 11.3 فیصد بڑھ گئیں، مالی سال 2022، پہلی ششماہی میں ترسیلات 15ارب 80 کروڑ ڈالر رہیں، نومبرکے مقابلے دسمبر 2021 میں ترسیلات ڈھائی فیصد بڑھیں، دسمبر2021 میں ڈھائی ارب ڈالر ترسیلات پاکستان آئیں، جون2020 سے اب تک ہر ماہ 2 ارب ڈالر سے زائد ترسیلات موصول۔
Live مہنگائی کا طوفان سے متعلق تازہ ترین معلومات