عالمی بینک کے مطابق آئندہ سال مہنگائی کی شرح 26فیصد سے کم ہوکر 15فیصد ہونے کی توقع ہے

مالی سال 2026 میں مہنگائی کی شرح مزید کم ہوکر 11.5 فیصد تک رہنے کا امکان ہے، آئندہ سال اقتصادی شرح نمو بڑھ کر 2.3 فیصد ہوجائے گی،ورلڈ بینک کی میکرواکنامک آؤٹ لک رپورٹ

Sanaullah Nagra ثنااللہ ناگرہ منگل 2 اپریل 2024 19:18

عالمی بینک کے مطابق آئندہ سال مہنگائی کی شرح 26فیصد سے کم ہوکر 15فیصد ..
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 اپریل2024ء) عالمی بینک کے مطابق آئندہ سال مہنگائی کی شرح 26 فیصد سے کم ہوکر 15فیصد ہونے کی توقع ہے، مالی سال 2026 میں مہنگائی کی شرح مزید کم ہوکر 11.5 فیصد تک رہنے کا امکان ہے، آئندہ سال اقتصادی شرح نمو بڑھ کر 2.3 فیصد ہوجائے گی۔ میڈیا کے مطابق ورلڈ بینک نے میکرواکنامک آؤٹ لک رپورٹ جاری کی ہے جس کے تحت رواں مالی سال میں پاکستان کی اقتصادی شرح نمو 1.8 فیصد اور آئندہ سال 2025 میں بڑھ کر 2.3 فیصد جبکہ مالی سال 2026 میں شرح نمو مزید بڑھ کر 2.7 فیصد رہنے کی توقع ہے۔

اسی طرح رواں مالی سال زرعی شرح نمو3 فیصد، آئندہ سال2025 میں 2.2 فیصد اور سال 2026 میں زرعی شرح نمو2.7 فیصد رہنے کا امکان ہے۔ نیوزایجنسی کے مطابق عالمی بینک نے پاکستان میکرو اکنامک آؤٹ لک رپورٹ میں بتایا کہ مالی سال 2025 میں پاکستان کی شرح نمو 2.3 فیصد جبکہ مالی سال 2026 میں 2.7 فیصد رہنے کا امکان ہے۔

(جاری ہے)

عالمی بینک کے مطابق رواں مالی سال 24-2023 کے دوران شعبہ زراعت کی ترقی 3 فیصد تک رہ سکتی ہے، مالی سال 2025 میں زرعی شرح نمو کم ہوکر 2.2 فیصد رہنے کا امکان ہے، جبکہ عالمی بینک نے مالی سال 2026 میں زراعت کی ترقی بڑھ کر 2.7 فیصد رہنے کی پیش گوئی ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ رواں مالی سال کے دوران صنعتی ترقی کی نمو 1.8 فیصد رہنے کا امکان ہے، جبکہ اگلے مالی سال 2025 میں یہ 2.2 فیصد اور 2026 میں 2.4 فیصد رہنے کا امکان ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ گزشتہ سال کے مقابلے میں رواں مالی سال کے دوران بجٹ خسارہ بڑھ کر جی ڈی پی کے 8 فیصد تک رہنے کا تخمینہ ہے۔ عالمی بینک نے رپورٹ میں بتایا کہ شرح سود اور مہنگائی میں کمی کا انحصار پائیدار مالی استحکام پر ہے، مختلف شعبوں کوسبسڈیز، گرانٹس، قرضے معیشت کو متاثر کر رہے ہیں۔

عالمی بینک کے مطابق حکومت کے مالی خسارے میں 18 فیصدحصہ سرکاری اداروں کا شامل ہے، سال 2022 میں سرکاری اداروں پر ایک ہزار 303 ارب روپے کے اخراجات آئے۔عالمی بینک نے رپورٹ میں این ایچ اے، پی آئی اے، اسٹیل مل کے نقصانات کم کرنے کے علاوہ انرجی سیکٹر سمیت سرکاری اداروں میں مشکل اصلاحات پر زور دیا۔عالمی بینک نے کہا کہ توانائی کے شعبے کے ساتھ ساتھ پنشن اورسول سروس میں اصلاحات بھی ناگزیر ہیں۔

رپورٹ کے مطابق آئندہ مالی سال قرضوں کی شرح 73.1 سے کم ہو کر 72.3 فیصد پر آنے کا امکان ہے، مالی استحکام کے لیے پرائمری خسارہ قابو میں رکھنا سب سے اہم ہوگا۔ عالمی بینک کے مطابق مالی سال 2025 میں مالیاتی خسارہ جی ڈی پی کے 7.4 فیصد جبکہ مالی سال 2026 میں خسارہ جی ڈی پی کے 6.6 فیصد رہنے کا امکان ہے۔ عالمی بینک نے پاکستان میں مہنگائی میں کمی کی پیش گوئی بھی کی، عالمی بینک نے کہا کہ رواں مالی سال 24-2023 کے دوران مہنگائی کی اوسط شرح 26 فیصد رہنے کا امکان ہے، جبکہ عالمی بینک نے اگلے مالی سال اوسط مہنگائی مزید کم ہو کر 15 فیصد تک رہنے کی پیش گوئی کی ہے۔عالمی بینک نے رپورٹ میں بتایا کہ مالی سال 2026 میں مہنگائی کی شرح 11.5 فیصد تک رہنے کا امکان ہے۔