ایس ایم ای سیکٹر کی بجٹ تجاویز کے لئے سمیڈا کا مشاورتی اجلاس،ٹیکسوں اور مالیاتی رسائی کے لئے آسان نظام وضع کیا جائے، سٹیک ہولڈرز کا مطالبہ

جمعرات 4 اپریل 2024 15:30

لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 04 اپریل2024ء) سمال اینڈ میڈیم انٹرپرائزز ڈویلپمنٹ اتھارٹی (سمیڈا) کے زیر اہتمام وفاقی بجٹ کے لئے ایس ایم ایز کی تجاویز کے حصول کے سلسلے میں جمعرات کو ایک مشاورتی اجلاس منعقد ہوا،جس کی صدارت سمیڈا کی جنرل منیجر پالیسی اینڈ پلاننگ نادیہ جہانگیر سیٹھ نے کی جبکہ فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز کے نائب صدر ذکی اعجاز اور لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کی مجلس عاملہ برائے ایس ایم ایز سجاد افضل،کراچی چیمبر آف کامرس کے نائب صدر تنویر بری،پاکستان چینز سٹور ایسوسی ایشن کے عہدیدار اسفند یار فرخ اور متعدد دیگر کاروباری رہنمائوں نے ایس ایم ای سیکٹر کو درکار سہولتوں کی نشاندہی کی۔

سمیڈا کی جنرل منیجر نے اپنے افتتاحی خطاب کے دوران بتایا کہ سمیڈا حکومت اور ایس ایم ای سیکٹر کے درمیان ایک موثر پل کا کردار ادا کر رہا ہے اور ہر سال وفاقی بجٹ سے قبل ملک بھر سے ایس ایم ایز کے ساتھ بھرپور مشاورت کی جاتی ہے،اس مشاورت کے نتیجے میں ملنے والی تجاویز کو وفاقی صنعت و پیداوار کے توسط سے بجٹ کا حصہ بنانے کی کوششیں کی جاتی ہیں۔

(جاری ہے)

اس موقع پر فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز،لاہور چیمبرز،کوئٹہ چیمبرز،سرحد چیمبرز،وومن چیمبرز اور ایس ایم ای کے دیگر نمائندوں نے مذکورہ نشت میں بھرپور حصہ لیتے ہوئے اپنی تجاویز پیش کیں۔انہوں نے کہا کہ ایس ایم ای سیکٹر کے لئے ڈیوٹیز کی شرح کو کم سے کم سطح پر لانے کی ضرورت ہے،اس مقصد کے لئے سیلز ٹیکس سمیت تمام ٹیکسوں کو سنگل ڈیجٹ پر لایا جانا چاہیے،اسی طرح قرضوں کی آسان اور کم شرح مارک اپ پر فراہمی کو بھی ممکن بنایا جانا چاہیے۔

انہوں نے مطالبہ کیا کہ ایس ایم ایز کے لئے مارک اپ کی شرح میں کمی لانی چاہیے۔انہوں نے کہا کہ قانون پسند ایس ایم ایز کو تحفظ دینے،سمگلنگ کو روکنے کے لئے ہنگامی بنیادوں پر ٹھوس اقدامات کئے جانے چاہئیں،سٹیک ہولڈرز نے کاروبار کو آسان تر بنانے کے لئے ڈاکو مینٹیشن کے عمل کو سادہ اور سہل بنانے پر بھی زور دیا۔قبل ازیں سمیڈا انتظامیہ نے ملک بھر کی ایس ایم ایز سے اپیل کی کہ وہ مالیاتی پالیسیوں اور ٹیکسوں سے متعلق مشکلات کے ازالے کے لئے اپنی تجاویز سمیڈا تک ضرور پہنچائیں۔

انہوں نے یقین دہانی کروائی کہ وفاقی وزارت صنعت و پیداوار کے توسط سے وزارت خزانہ اور ایف بی آر کو نہ صرف تجاویز ارسال کی جائیں گی بلکہ انہیں وفاقی بجٹ2024-25 کا حصہ بنانے کے لئے بھرپور کوشش کی جائیں گی۔