نوجوان ذہنوں کو سائبر کرائمز کے بڑھتے ہوئے منفی اثرات سے محفوظ رکھنے کیلئے اجتماعی کارروائی وقت کی اہم ضرورت، سائبر سیکیورٹی ماہرین

اتوار 6 اپریل 2025 15:00

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 06 اپریل2025ء) معروف سائبر سکیورٹی ماہرین نے والدین، اساتذہ اور سٹیک ہولڈرز کی جانب سے نوجوان ذہنوں پر ڈیجیٹل اثرات کے منفی اثرات کو کم کرنے کے لیے اجتماعی کوششوں کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ ان کو نظر انداز کرنے کی جبائے بجائے آن لائن رہنمائی تلاش کرنے کی ضرورت ہے۔ وفاقی تحقیقاتی ادارے کے سابق ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل عمار جعفری نے اتوار کو پی ٹی وی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے پاکستان کے سائبر کرائم ونگ اور آن لائن خطرات سے نمٹنے کے لیے اس کی کوششوں کی وضاحت کرتے ہوئے تمام اسٹیک ہولڈرز سے اجتماعی کارروائی کی ضرورت پر زور دیا۔

عمار جعفری نے سائبر کرائمز سے نمٹنے اور آن لائن حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے سخت چیک اینڈ بیلنس کی ضرورت پر بھی زور دیا۔

(جاری ہے)

انہوں نے نوجوانوں کو آن لائن خطرات، سائبر بدمعاشی، ہراساں کرنے اور استحصال سے بچانے کے طریقوں پر بھی روشنی ڈالی اور کہا کہ نوجوانوں کو ڈیجیٹل شہریت، آن لائن سیفٹی اور سائبرسکیوریٹی کے بہترین طریقوں کے بارے میں تعلیم دینا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ ڈاکٹر مظہر اقبال بھٹی نے سائبر کرائم میں نوجوانوں کی شمولیت میں اضافے سے متعلق کہا کہ اس کے افراد، کاروبار اور قوموں کے لیے سنگین نتائج ہو سکتے ہیں۔