فنانس بل میں مقررہ وقت پر انکم ٹیکس گوشوارے جمع نہ کروانے والوں پر بھاری جرمانے عائدکرنے کی تجویز
ای کامرس کے ذریعے ڈیجیٹل طور پر آرڈر کی گئی اشیا فروخت کرنے والی غیررجسٹرڈ کمپنیوں پر بھی10لاکھ تک جرمانہ عائدکیا جاسکے گا
میاں محمد ندیم
جمعرات 12 جون 2025
14:02
(جاری ہے)
رپورٹ کے مطابق وفاقی حکومت نے ٹیکس قوانین کو مزید سخت بنانے کے لیے وسیع اصلاحات کی تجویز دی ہے جن میں عدم تعمیل پر نمایاں طور پر زیادہ جرمانے اور کم ٹیکس ادا کرنے والے یا ڈیجیٹل سرگرم شعبوں کو ہدف بنانے کے لیے سخت نفاذی اقدامات شامل ہیں فنانس بل 2025 میں تجویز کردہ ان تبدیلیوں کا مقصد ٹیکس چوری کی روک تھام، نقد لین دین کی حوصلہ شکنی اور معیشت کی مکمل دستاویز بندی کو فروغ دینا ہے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے چیئرمین رشید محمود لنگڑیال کا کہنا ہے کہ محصولات میں اضافے کے لیے نفاذ ہی واحد موثر راستہ ہے اور اس مقصد کے لیے نئے ٹیکسوں پر انحصار نہیں کیا جاسکتا. اہم ترامیم میں سے ایک یہ ہے کہ ود ہولڈنگ ٹیکس گوشوارے جمع نہ کرانے پر جرمانے کی رقم میں دس گنا اضافہ کیا گیا ہے جو 5 ہزار روپے سے بڑھا کر 50 ہزار روپے کردی گئی ہے حکام کا ماننا ہے کہ اس اقدام سے ود ہولڈنگ ایجنٹس کو مقررہ وقت پر گوشوارے جمع کرانے پر مجبور کیا جاسکے گا ایک بھاری جرمانہ آن لائن مارکیٹ پلیسز کے لیے تجویز کیا گیا ہے جو ایسے غیر رجسٹرڈ، غیر مقیم فروشندگان کو ای کامرس کے ذریعے ڈیجیٹل طور پر آرڈر کی گئی اشیا فروخت کرنے کی اجازت دیتی ہیں، جو سیلز ٹیکس ایکٹ اور انکم ٹیکس آرڈیننس کے تحت مناسب رجسٹریشن کے بغیر کام کررہے ہیں. تجویز کردہ فریم ورک کے تحت، پہلی خلاف ورزی پر 5 لاکھ روپے جب کہ بعد میں ہونے والی ہر خلاف ورزی پر 10 لاکھ روپے کا جرمانہ عائد کیا جائے گا یہ جرمانے آن لائن پلیٹ فارمز اور کورئیر سروسز دونوں پر لاگو ہوں گے جو ایسی ٹرانزیکشنز کو ممکن بناتے ہیں فنانس بل کے مطابق اگر کوئی بینکنگ کمپنی، پیمنٹ گیٹ وے یا کورئیر سروس فراہم کنندہ فروشندگان کو ادائیگی کے وقت ٹیکس کی کٹوتی کرنے میں ناکام رہتا ہے یا کٹوتی شدہ ٹیکس حکومت کو جمع نہیں کراتا، تو اس پر سخت سزائیں تجویز کی گئی ہیں. ای کامرس پلیٹ فارمز کے ذریعے ڈیجیٹلی آرڈر کی گئی اشیا یا ڈیجیٹل سروسز کے معاملات میں، حکومت نے خلاف ورزی کی صورت میں ٹیکس کی رقم کے برابر یعنی 100 فیصد جرمانے کی تجویز دی ہے حکومت نے بینکوں اور کورئیر سروسز کو آن لائن اشیا اور خدمات خریدنے والے خریداروں سے ود ہولڈنگ اور سیلز ٹیکس کی کٹوتی کے لیے ود ہولڈنگ ایجنٹ مقرر کر دیا ہے جمع شدہ ٹیکس ایف بی آر کو جمع کرایا جائے گا جب کہ باقی رقم بیچنے والے کو منتقل کی جائے گی. فنانس بل 2025 مختلف شعبوں میں کئی ترامیم متعارف کراتا ہے جن کے تحت بعض افراد کی مالی لین دین پر پابندیاں مزید سخت کی گئی ہیں، یہ پابندیاں ابتدائی طور پر ٹیکس لاز (ترمیمی) بل 2024 میں بیان کی گئی تھیں تجویز کردہ ترامیم کے مطابق اب غیر منقولہ جائیداد کی قیمت کا تعین فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے بجائے وفاقی حکومت کرے گی جب تک یہ قیمت سرکاری طور پر مقرر نہیں کی جاتی جائیداد کی رجسٹریشن، اندراج یا تصدیق پر کوئی پابندی لاگو نہیں ہوگی اور نہ ہی کسی فرد کو ان لین دین کے لیے نااہل قرار دیا جائے گا فنانس بل 2025 میں بینک اکاﺅنٹس سے متعلق کچھ مزید رعایتیں بھی شامل کی گئی ہیں جن کے تحت پینشنرز کے اکاﺅنٹس کو ان پابندیوں سے واضح طور پر مستثنیٰ قرار دیا گیا ہے، جو کرنٹ یا سیونگ اکاﺅنٹس کھولنے یا برقرار رکھنے پر لاگو ہوتی ہیں. بل میں ”اہل فرد“ کی تعریف کو بھی وسعت دی گئی ہے جس میں وہ افراد شامل ہیں جنہوں نے اپنی سرمایہ کاری کے ذرائع اور اخراجات کا گوشوارہ جمع کرایا ہے اور کسی خاص خریداری یا سرمایہ کاری کے لیے مناسب وسائل اور وضاحت فراہم کی ہے بل کے مطابق ”اسپیشل چائلڈ“ کو قریبی خاندانی رکن کی تعریف سے خارج کر دیا گیا ہے اور اس کے لیے 25 سال کی عمر کی حد بھی ختم کر دی گئی ہے اس تبدیلی کے بعد ایسے افراد جو 26 سال یا اس سے زائد عمر کے ہیں اور مالی طور پر والدین پر انحصار کرتے ہیں اب قریبی خاندانی رکن شمار کیے جائیں گے. کافی وسائل کی تعریف میں بھی توسیع کی گئی ہے جس میں مقامی یا غیر ملکی کرنسی میں نقد رقم، سونے کی منصفانہ مارکیٹ ویلیو، اسٹاکس، بانڈز، وصولی کے قابل رقوم اور دیگر قابل قبول نقدی کے مساوی اثاثوں کی خالص قدر شامل ہے افراد ان اثاثوں کو اپنی سرمایہ کاری اور اخراجات کے ذرائع کے گوشوارے یا تازہ ترین ٹیکس سال کے لیے جمع کرائے گئے دولت کے گوشوارے میں ظاہر کر سکتے ہیں کمپنیوں اور اشخاص کی انجمنوں (اے او پیز) کے لیے ”کافی وسائل“ میں وہ نقدی اور مساوی اثاثے شامل ہوں گے جو انکم ٹیکس ریٹرن کے ساتھ جمع شدہ مالیاتی گوشواروں میں درج ہوں گے. فنانس بل میں ”کافی وسائل“ کی تعریف میں ایک نئی شق شامل کرنے کی بھی تجویز دی گئی ہے جس کے مطابق اگر کوئی اثاثہ ایسے سرمایہ جاتی اثاثے کے تبادلے کے ذریعے حاصل کیا گیا ہو جو پہلے سے دولت کے گوشوارے، مالیاتی گوشوارے یا سرمایہ کاری و اخراجات کے ذرائع کے گوشوارے میں ظاہر کیا گیا ہو، تو اس تبادلے میں دیا گیا سرمایہ جاتی اثاثہ، معاہدے میں درج قیمت تک نقدی کے مساوی اثاثے تصور کیے جائیں گے.
مزید اہم خبریں
-
غزہ فلوٹیلا: انسانی امدادی سامان کی ترسیل جرم نہیں، انسانی حقوق دفتر
-
پاکستان: لاہور کو اطفال دوست شہر بنانے کا منصوبہ
-
کروز شپ: ہنٹا وائرس سے ایک اور مسافر بیمار
-
پاکستان کے خلاف کسی بھی جارحیت یا دشمنانہ عزائم کا جواب پہلے سے زیادہ طاقت، درستگی اور عزم کے ساتھ دیا جائے گا
-
ملک پر 79برس سے اشرافیہ کا راج ہے، مقتدرہ کی سرپرستی میں پروان چڑھنے والی پارٹیاں ملک چلانے میں ناکام ہوگئیں
-
پاکستان میں دوران پرواز انٹرنیٹ اور موبائل سروس کی اجازت کا فیصلہ
-
دنیا میں بڑھتے سائبر حملوں سے آن لائن ٹیکنالوجی کی کمزوریاں آشکار
-
ہنٹا وائرس کا انسانوں سے پھیلاؤ خارج از امکان نہیں، ڈبلیو ایچ او
-
جانیے بیماریوں کے خلاف برسر پیکار پرعزم پاکستانی خواتین ویکسینیٹر بارے
-
مالی خانہ جنگی میں بگڑتی انسانی صورتحال پر اقوام متحدہ کو تشویش
-
ڈیجیٹل نظام میں ممکنہ خلل سے نمٹنے کی پیشگی تیاری ضروری، یو این
-
لبنان میں جنگ بندی کے باوجود خوف کے طویل سائے برقرار
UrduPoint Network is the largest independent digital media house from Pakistan, catering the needs of its users since year 1997. We provide breaking news, Pakistani news, International news, Business news, Sports news, Urdu news and Live Urdu News
© 1997-2026, UrduPoint Network
All rights of the publication are reserved by UrduPoint.com. Reproduction without proper consent is not allowed.