ملک پر 79برس سے اشرافیہ کا راج ہے، مقتدرہ کی سرپرستی میں پروان چڑھنے والی پارٹیاں ملک چلانے میں ناکام ہوگئیں

عید کے بعد مہنگائی اور آئی پی پیز مافیا کیخلاف تحریک چلائیں گے، عام آدمی بیسیوں قسم کا ٹیکس دیتا ہے لیکن افسر شاہی اور جاگیردار عیاشیاں کر رہے ہیں۔ حافظ نعیم الرحمن کا خطاب

Sanaullah Nagra ثنااللہ ناگرہ بدھ 6 مئی 2026 22:40

ملک پر 79برس سے اشرافیہ کا راج ہے، مقتدرہ کی سرپرستی میں پروان چڑھنے ..
گجرات (اردوپوائنٹ اخبار تازہ ترین۔ انٹرنیشنل پریس ایجنسی ۔ 06 مئی 2026ء ) امیرجماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے کہ ملک پر 79برس سے اشرافیہ کا راج، عوام کو حق حکمرانی نہیں ملا۔ مقتدرہ کی سرپرستی میں پروان چڑھنے والی پارٹیاں ملک چلانے میں ناکام ہو گئیں، گزشتہ چار برس میں ملک کا قرضہ پچپن ہزار ارب سے بڑھ کر پچاسی ہزار ارب ہوگیا۔

عام آدمی بیسیوں قسم کا ٹیکس دیتا ہے، افسر شاہی، جاگیردار، وڈیرے وسائل پر قابض، عیاشیاں کر رہے ہیں۔ قوم اپنا حق لینے کے لیے تیار ہوجائے، پنجاب جاگے گا تو پورا پاکستان جاگ جائے گا۔ عید کے بعد مہنگائی، آئی پی پیز مافیا کے خلاف اور نظام کی تبدیلی کی تحریک چلائیں گے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے گجرات میں ممبرشپ مہم کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

(جاری ہے)

امیر جماعت اسلامی پنجاب شمالی ڈاکٹر طارق سلیم، امیر گجرات چوہدری انصر محمود اور امیر شہر نعیم خاور بھی اس موقع پر موجود تھے۔ قبل ازیں امیر جماعت اسلامی نے ڈنگہ اور کھاریاں میں بھی عوامی رابطہ مہم کے کیمپوں کا دورہ اور کارکنان سے خطاب کیا۔ انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی عوامی رابطہ مہم کے دوران پچاس لاکھ ممبرز اور پچاس ہزار عوامی کمیٹیوں کی تشکیل کا ہدف حاصل کرے گی۔

حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ موجودہ حالات میں پاکستان کو مواقع ملے ہیں، ہو سکتا ہے ملک میں سرمایہ کاری ہو، تاہم یہ بات واضح ہے کہ جب لٹیرے حکمران ہوں تو قوم کی تقدیر نہیں بدل سکتی، اگر حکمران طبقے کو اربوں ڈالر بھی مل جائیں یہ عوام کو ان کا حق نہیں دیں گے۔ جاگیردار اور وڈیرے اپنی طاقت کے ذریعے غریب اور عام آدمی کا استحصال کر کے اپنی اجارہ داری قائم رکھتے ہیں۔

موجودہ نظام میں امیر مزید امیر اور غریب، غریب تر ہوتا جا رہا ہے۔
امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ آئین کے مطابق بچوں کو مفت تعلیم، عوام کو عدل و انصاف اور صحت کی سہولیات فراہم کرنا ریاست کی ذمہ داری ہے مگر آج تک عوام ان بنیادی سہولیات سے محروم ہیں، افسر شاہی مہنگی سرکاری گاڑیوں میں مفت استعمال کر کے مزے لے رہی ہے، مریم نواز گیارہ ارب کے جہاز میں گھومتی ہے، غریب کا ٹھیلا الٹا دیا جاتا ہے، عوام کے ٹیکسوں کے پیسوں سے تشہیر کر کے بہتری کے دعوے کیے جاتے ہیں، زمینی حقائق بالکل مختلف ہیں، پنجاب میں ہی ایک کروڑ بچے سکولوں سے باہر ہیں، وزیراعلیٰ پنجاب بتائیں کہ ان کی گورننس کہاں ہے؟ انہوں نے مزید کہا کہ پنجاب میں گزشتہ کئی دہائیوں سے شریف خاندان کی حکمرانی ہے تاہم اس کے باوجود آج تک عوام کی حالت بہتر نہیں ہوئی۔

سکولوں اور بنیادی مراکز صحت کو فروخت کیا جا رہا ہے، لیڈی ہیلتھ ورکرز سراپا احتجاج ہیں، زرعی صوبہ ہونے کے باوجود پنجاب کا کسان بدحال ہے، گندم، آٹا اور چینی مافیا فائدہ اٹھا رہے ہیں۔
حافظ نعیم الرحمن نے عدالتی نظام پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ 79 سال میں عدلیہ میں بہتری نہیں آئی، 24 لاکھ مقدمات زیر التوا ہیں اور غریب کے لیے ایف آئی آر درج کروانا بھی مشکل ہو چکا ہے۔

26ویں اور 27ویں آئینی ترامیم سے عدلیہ مزید کمزور ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ سرکاری اسپتالوں میں عوام کو سہولیات میسر نہیں۔ انہوں نے کہا کہ آئین میں سود حرام ہے، تاہم اس کی شرح میں مزید ایک فیصد اضافہ کر دیا گیا ہے، اس ایک فیصد اضافہ سے ملک کے قرضوں میں مزید 540 ارب روپے کا اضافہ ہو گیا، قومی بجٹ کا آٹھ ہزار ارب قرضوں پر سود کی ادائیگی میں چلا جاتا ہے، سود کی لعنت کے ہوتے ہوئے معیشت کیسے بہتر ہو سکتی ہے؟
امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ صرف جماعت اسلامی ہی نظام بدل سکتی ہے، کیوں کہ جماعت اسلامی عام آدمی کی جماعت ہے۔

جماعت اسلامی ”بنوقابل“ کے ذریعے ملک بھر میں لاکھوں بچوں کو مفت آئی ٹی کی تعلیم دے رہی ہے، کسی بھی قدرتی آفت میں جماعت اسلامی کے کارکنان عوامی خدمت میں سب سے آگے ہوتے ہیں۔ جماعت اسلامی پر کرپشن کا کوئی داغ نہیں، یہاں ہر شخص کو اہلیت کی بنیاد پر آگے بڑھنے کے مواقع دستیاب ہیں، لہٰذا عوام سے اپیل کرتا ہوں کہ جماعت اسلامی کے ممبر بنیں اور جدوجہد کے لیے تیار ہو جائیں، نوجوانوں سے خصوصی اپیل ہے کہ وہ حالات سے مایوس نہ ہوں بلکہ متحد ہو کر مسلط حکمرانوں کو مایوس کریں۔