لبنان میں جنگ بندی کے باوجود خوف کے طویل سائے برقرار
یو این
بدھ 6 مئی 2026
22:15
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ UN اردو۔ 06 مئی 2026ء) لبنان میں نقل مکانی کا سلسلہ بدستور جاری ہے جہاں 17 اپریل سے شروع ہونے والی جنگ بندی کے باوجود بہت سے لوگ گھربار چھوڑنے پر مجبور ہیں جبکہ اسرائیل کے زیرقبضہ علاقوں میں شہریوں کو اپنے علاقے اور گھروں میں واپس آنے کی اجازت نہیں دی جا رہی۔
ملک میں پناہ گزینوں کے لیے اقوام متحدہ کے ادارے (یو این ایچ سی آر) کی نمائندہ کیرولینا لنڈہوم بلنگ نے بتایا ہے کہ جنوبی لبنان اور وادی بقہ کے کچھ علاقوں میں شہریوں کی زندگی کو آج بھی خطرات لاحق ہیں۔
جنگ بندی کے بعد ملک بھر میں کم از کم 380 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ لبنان کے بہت سے حصوں میں گھروں اور عوامی سہولیات کو وسیع پیمانے پر نقصان پہنچا ہے جس سے لاکھوں افراد متاثر ہوئے ہیں۔(جاری ہے)
گزشتہ دنوں لبنان کے دورے میں انہوں نے ناباطیہ اور صور کے متعدد خاندانوں سے ملاقات کی جو جنگ بندی کے بعد اپنے گھروں کو لوٹے مگر وہاں انہیں ملبے کے ڈھیر اور تباہی کے سوا کچھ نہ ملا۔
ایک شخص نے انہیں موبائل فون پر اپنے منہدم گھر کی تصویر دکھائی۔ اب وہ پناہ گاہ کے طور پر استعمال ہونے والے ایک سکول کے کمرہ جماعت میں رہتا ہے جس کے پاس واپس جانے کے لیے کچھ بھی نہیں اور مستقبل انتہائی غیر یقینی ہے۔طبی عملے پر حملے
بین الاقوامی انسانی قانون کے تحت شہریوں اور امدادی کارکنوں کو جنگ میں تحفظ حاصل ہوتا ہے مگر لبنان میں شہریوں کو تواتر سے نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
بین الاقوامی فیڈریشن آف ریڈ کراس اینڈ ریڈ کریسنٹ سوسائٹیز (آئی ایف آر سی) کے ترجمان ٹوماسو ڈیلا لونگا نے کہا ہے کہ وہ لبنانی ریڈ کراس کے رضاکاروں کا یہ واضح پیغام پہنچانا چاہتے ہیں کہ انہیں تحفظ درکار ہے۔ترجمان نے گزشتہ ہفتے لبنان میں رضاکارانہ طبی خدمات انجام دینے والوں سے ملاقات کے بعد بتایا کہ جب بھی وہ ایمبولینس گاڑیوں پر مریضوں یا زخمیوں کو لینے جاتے ہیں تو ایک دوسرے کو گلے لگاتے اور الوداع کہتے ہیں کیونکہ انہیں یقین نہیں ہوتا کہ وہ بحفاظت واپس لوٹیں گے۔
گزشتہ دو ماہ کے دوران جنوبی لبنان میں امدادی کارروائیوں کے دوران 'آئی ایف آر سی' کے دو معاون طبی کارکن یوسف عساف اور حسن بدوی ہلاک ہو گئے تھے۔ ڈیلا لونگا نے کہا ہے کہ ریڈ کراس کے رضاکاروں کو ایمبولینس گاڑی میں بلٹ پروف جیکٹوں یا ہیلمٹ کی ضرورت نہیں ہونی چاہیے۔ ان کا نشان ہی انہیں تحفظ فراہم کرتا ہے۔
عزت نفس کی بحالی
لبنان میں تقریباً 18 لاکھ افراد جنگ کے باعث بے گھر ہو چکے ہیں۔
'یو این ایچ سی آر' کے مطابق، ہزاروں لوگ اب بھی جنوبی لبنان کے ان علاقوں میں موجود ہیں جو اسرائیلی فوج کے کنٹرول میں ہیں۔اقوام متحدہ
کے امدادی قافلے دریائے لیطانی کے جنوب میں مدد پہنچانے کی ہر ممکن کوشش کر رہے ہیں مگر انہیں رسائی کے مسائل کا سامنا ہے اور مالی وسائل کی قلت کے باعث لوگوں کی بنیادی ضروریات پوری کرنا نہایت دشوار ہے۔ترجمان نے کہا ہے کہ لوگوں کی عزت نفس بحال کرنا بھی امدادی کارروائی کا بنیادی حصہ ہے۔ مدد کی فراہمی ضروری ہے مگر لوگوں کی بات سننا، انہیں امدادی عمل میں شامل کرنا اور ایک دوسرے کی مدد کرنے کے قابل بنانا بھی اہم ہے۔ جنگ بندی نہ تو معمولات زندگی بحال کر سکی ہے اور نہ ہی فی الوقت اس سے روزگار، پانی، خوراک یا صحت جیسی بنیادی ضروریات کی فراہمی یقینی بنانے میں کوئی مدد ملی ہے۔
مزید اہم خبریں
-
پاکستان کے خلاف کسی بھی جارحیت یا دشمنانہ عزائم کا جواب پہلے سے زیادہ طاقت، درستگی اور عزم کے ساتھ دیا جائے گا
-
ملک پر 79برس سے اشرافیہ کا راج ہے، مقتدرہ کی سرپرستی میں پروان چڑھنے والی پارٹیاں ملک چلانے میں ناکام ہوگئیں
-
پاکستان میں دوران پرواز انٹرنیٹ اور موبائل سروس کی اجازت کا فیصلہ
-
دنیا میں بڑھتے سائبر حملوں سے آن لائن ٹیکنالوجی کی کمزوریاں آشکار
-
ہنٹا وائرس کا انسانوں سے پھیلاؤ خارج از امکان نہیں، ڈبلیو ایچ او
-
جانیے بیماریوں کے خلاف برسر پیکار پرعزم پاکستانی خواتین ویکسینیٹر بارے
-
مالی خانہ جنگی میں بگڑتی انسانی صورتحال پر اقوام متحدہ کو تشویش
-
ڈیجیٹل نظام میں ممکنہ خلل سے نمٹنے کی پیشگی تیاری ضروری، یو این
-
لبنان میں جنگ بندی کے باوجود خوف کے طویل سائے برقرار
-
مہاجرت کے محفوظ راستے تارکین وطن اور معیشتوں کے لیے سودمند
-
ایران جنگ: گلف میں بڑھتی کشیدگی پر یو این کو گہری تشویش
-
ایران کے ساتھ معاہدے کے قریب ہوں، ممکن ہے کہ اگلے ہفتے میرے دورہ چین سے پہلے معاہدہ ہوجائے
UrduPoint Network is the largest independent digital media house from Pakistan, catering the needs of its users since year 1997. We provide breaking news, Pakistani news, International news, Business news, Sports news, Urdu news and Live Urdu News
© 1997-2026, UrduPoint Network
All rights of the publication are reserved by UrduPoint.com. Reproduction without proper consent is not allowed.