مالی خانہ جنگی میں بگڑتی انسانی صورتحال پر اقوام متحدہ کو تشویش
یو این
بدھ 6 مئی 2026
22:15
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ UN اردو۔ 06 مئی 2026ء) اقوام متحدہ کے دفتر برائے انسانی حقوق (او ایچ سی ایچ آر) نے خبردار کیا ہے کہ افریقی ملک مالی میں انسانی حقوق کی صورتحال تیزی سے بگڑ رہی ہے جہاں ملک بھر میں مسلح گروہوں کے منظم حملوں میں شہریوں کی بڑی تعداد ہلاک، بے گھر اور خوراک و امداد سے محروم ہو رہی ہے۔
مالی میں تشدد 25 اور 26 اپریل کو شروع ہوا جب ملک کی فوجی حکومت کے مخالف متعدد مذہبی انتہا پسند اور علیحدگی پسند گروہوں نے کئی شہروں اور قصبوں میں حملے کیے جن میں دارالحکومت بماکو بھی شامل ہے۔
ان حملوں کے نتیجے میں بھاری جانی نقصان ہوا اور بہت سے لوگ نقل مکانی پر مجبور ہو گئے۔ ادارے کے ترجمان سیف ماگانگو نے بتایا ہے کہ حالیہ دنوں ملک کی سکیورٹی فورسز اور مسلح گروہوں بشمول ازاواد لبریشن فرنٹ اور القاعدہ سے منسلک جماعت نصرت الاسلام والمسلمین کے مابین جھڑپیں جاری ہیں جن کے شہریوں پر تباہ کن اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔
(جاری ہے)
اقوام متحدہ
کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرش اور ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق وولکر ترک نے تمام فریقین پر زور دیا ہے کہ وہ بین الاقوامی قوانین کا احترام کریں اور شہریوں کے تحفظ کو یقینی بنائیں۔حقوق کی سنگین پامالی
حملوں کے بعد انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی کے الزامات بھی سامنے آئے ہیں جن میں ماورائے عدالت ہلاکتیں اور اغوا بھی شامل ہیں۔
تین روز قبل وکیل اور سیاستدان مونٹاگا ٹال کو نامعلوم مسلح افراد نے ان کے گھر سے اغوا کر لیا جبکہ ان کی اہلیہ کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ ان سمیت کئی دیگر مغویوں کا اب تک کوئی سراغ نہیں مل سکا۔حکام نے ان حملوں کی تحقیقات کا اعلان کیا ہے جبکہ 'او ایچ سی ایچ آر' نے زور دیا ہے کہ تحقیقات جامع ہوں اور ان میں انسانی حقوق کے بین الاقوامی قوانین خصوصاً شفاف عدالتی عمل کی مکمل پاسداری کی جائے۔
بڑھتا انسانی بحران
مالی میں انسانی حالات بھی بدترین صورت اختیار کرتے جا رہے ہیں۔ ملک کے بعض حصوں میں قحط کے خدشات بڑھ رہے ہیں۔ وسطی شہرموپتی میں مقامی حکام نے خبردار کیا ہے کہ مسلح گروہوں کی ناکہ بندی کے باعث خوراک کی شدید قلت پیدا ہو سکتی ہے۔ بماکو اور دیافارابے کو مبینہ طور پر شدت پسند جنگجوؤں نے محاصرے میں لے رکھا ہے جس سے ضروری اشیاء کی ترسیل متاثر ہو رہی ہے۔
ترجمان نے کہا ہے کہ ایسی ناکہ بندیاں شہریوں کے لیے ناقابل قبول نتائج کا باعث بنتی ہیں اور انہیں فوری طور پر ختم ہونا چاہیے۔ انہوں نے انسانی امداد کی محفوظ و بلا رکاوٹ رسائی کا مطالبہ بھی کیا ہے۔
تعلیمی اور طبی سہولیات پر حملے
اقوام متحدہ
کے ادارہ برائے اطفال (یونیسف) نے کہا ہے کہ یہ بحران بچوں پر شدید اثرات مرتب کر رہا ہے۔ موپتی میں ایک سکول میں دھماکہ خیز مواد سے حملے میں کم از کم 300 بچوں کی تعلیم متاثر ہوئی۔ گاؤ میں ایک مقامی طبی مرکز پر حملے نے تقریباً 2,700 بچوں کی طبی سہولیات تک رسائی کو متاثر کیا۔یونیسیف نے کہا ہے کہ سکول اور طبی مراکز بچوں کی محفوظ پناہ گاہیں ہونی چاہئیں اور انہیں کبھی نشانہ نہیں بنایا جانا چاہیے۔
اطلاعات کے مطابق، زخمیوں کی بڑھتی تعداد کے باعث طبی مراکز شدید دباؤ کا شکار ہیں۔
بین الاقوامی ریڈ کراس نے موپتی، کاتی، بماکو اور گاؤ کے ہسپتالوں کو ہنگامی امداد، ایندھن اور تکنیکی معاونت کی فراہمی میں اضافہ کر دیا ہے۔ریڈ کراس کی ٹیموں نے طبی مراکز کو ضروری سازوسامان کی فراہمی کے علاوہ جراحی کرنے والے عملے کو بھی مدد مہیا کی ہے جبکہ متاثرہ علاقوں میں ہسپتالوں کو کام جاری رکھنے کے لیے ایندھن بھی فراہم کیا جا رہا ہے۔
مزید اہم خبریں
-
ملک پر 79برس سے اشرافیہ کا راج ہے، مقتدرہ کی سرپرستی میں پروان چڑھنے والی پارٹیاں ملک چلانے میں ناکام ہوگئیں
-
دنیا میں بڑھتے سائبر حملوں سے آن لائن ٹیکنالوجی کی کمزوریاں آشکار
-
ہنٹا وائرس کا انسانوں سے پھیلاؤ خارج از امکان نہیں، ڈبلیو ایچ او
-
جانیے بیماریوں کے خلاف برسر پیکار پرعزم پاکستانی خواتین ویکسینیٹر بارے
-
مالی خانہ جنگی میں بگڑتی انسانی صورتحال پر اقوام متحدہ کو تشویش
-
ڈیجیٹل نظام میں ممکنہ خلل سے نمٹنے کی پیشگی تیاری ضروری، یو این
-
لبنان میں جنگ بندی کے باوجود خوف کے طویل سائے برقرار
-
مہاجرت کے محفوظ راستے تارکین وطن اور معیشتوں کے لیے سودمند
-
ایران جنگ: گلف میں بڑھتی کشیدگی پر یو این کو گہری تشویش
-
ایران کے ساتھ معاہدے کے قریب ہوں، ممکن ہے کہ اگلے ہفتے میرے دورہ چین سے پہلے معاہدہ ہوجائے
-
عمران خان نے پہلی بار مڈل کلاس فرد کو وزیراعلیٰ بنایا، وعدہ کرتا ہوں عوام کے اعتماد کو کبھی ٹھیس نہیں پہنچاؤں گا
-
ایران کی انگلی ٹریگر پر ہے اوروہ تیار ہے
UrduPoint Network is the largest independent digital media house from Pakistan, catering the needs of its users since year 1997. We provide breaking news, Pakistani news, International news, Business news, Sports news, Urdu news and Live Urdu News
© 1997-2026, UrduPoint Network
All rights of the publication are reserved by UrduPoint.com. Reproduction without proper consent is not allowed.