دنیا میں بڑھتے سائبر حملوں سے آن لائن ٹیکنالوجی کی کمزوریاں آشکار

یو این بدھ 6 مئی 2026 22:15

دنیا میں بڑھتے سائبر حملوں سے آن لائن ٹیکنالوجی کی کمزوریاں آشکار

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ UN اردو۔ 06 مئی 2026ء) انٹرنیٹ آج دنیا کے ہر کونے میں پہنچ گیا ہے اور صحت کے نظام سے لے کر مالیاتی منڈیوں، عوامی خدمات اور انتخابات کے انعقاد تک ہر معاملے میں اس کی لازمی ضرورت ہے۔ دنیا کا یہ گہرا باہمی ربط جہاں بے شمار فوائد لایا ہے وہیں بڑھتے سائبر جرائم لاکھوں انسانوں کی زندگیوں کو خطرے میں ڈال رہے ہیں۔

2017 میں یوکرین کی ایک چھوٹی سی سافٹ ویئر کمپنی 'ایم ای ڈاک' پر ہونے والا کامیاب سائبر حملہ بظاہر کوئی بڑی خبر نہیں تھی مگر اس کے نتیجے میں صرف ایک سال کے اندر دنیا بھر کے کاروباروں کو 10 ارب ڈالر سے زیادہ نقصان پہنچا۔

اسی سال 'وانا کرائی' نامی سائبرحملے نے برطانیہ کی نیشنل ہیلتھ سروس کو بری طرح متاثر کیا اور اس کے بعد یہ چند ہی روز میں 150 سے زیادہ ممالک تک پھیل گیا۔

(جاری ہے)

2022 میں جب اس کے ذریعے انٹرنیشنل کمیٹی آف ریڈ کراس نشانہ بنایا گیا تو دنیا بھر میں پانچ لاکھ سے زیادہ لوگوں کا حساس ڈیٹا افشا ہو گیا۔

عالمی سائبر جرائم کی وبا سے جڑے اخراجات کھربوں ڈالر تک جا پہنچے ہیں اور اس کے ساتھ ریاستی سطح پر شہری اور بنیادی خدمات کی فراہمی کے ڈھانچے پر ہونے والے آن لائن حملوں میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔

ان خطرات کے پھیلتے دائرے اور پیچیدگی نے واضح کر دیا ہے کہ آن لائن سلامتی کے حوالے سے محدود اور تکنیکی نوعیت کے طریقہ کار اب کافی نہیں رہے۔

Unsplash/Fly:D سائبر جرائم کے خلاف موثر تعاون کے لیے ضروری ہے کہ صنعت، سول سوسائٹی اور تعلیمی اداروں کو باقاعدہ شراکت دار سمجھا جائے۔

اجتماعی اقدامات کی ضرورت

اس صورتحال کی سنگینی کے اعتراف نے ایک نئے تصور کو جنم دیا ہے جسے سائبر استحکام کہا جاتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ صرف حملوں سے بچاؤ تک محدود رہنا درست نہیں بلکہ ایسے نظام اور معاشرے تشکیل دیے جائیں جو سائبر حملہ ہونے کی صورت میں موثر طریقے سے اس پر قابو پا سکیں۔

اگرچہ کاروباری ادارے اور حکومتیں اس حوالے سے عالمی سطح پر مشترکہ حکمت عملی کی ضرورت سے اتفاق کرتی ہیں مگر تیزی سے بدلتی ٹیکنالوجی، مختلف سیاسی طرز ہائے عمل، ضابطے سے متعلق طریقہ کار اور ادارہ جاتی صلاحیتوں کے فرق کی وجہ سے ڈیجیٹل دنیا میں بڑھتی ہوئی تقسیم اس کام کو مزید مشکل بنا دیتی ہے۔

یہ تمام عوامل مل کر ایسے خلا پیدا کرتے ہیں جہاں سائبر حملے آسان ہو جاتے ہیں اور اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ کوئی ایک کمپنی، حکومت یا بین الاقوامی ادارہ اکیلا عالمی سائبر خطرات کا مکمل مقابلہ نہیں کر سکتا۔

سائبر سکیورٹی کی مضبوط بنیاد

جامع سائبر استحکام کے لیے درکار اجتماعی اور باہمی تعاون کی بنیادیں پہلے ہی رکھی جا چکی ہیں اور ان کی شروعات اقوام متحدہ میں ہوئی۔

2015 میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے آن لائن دنیا میں رکن ممالک کے ذمہ دارانہ رویے سے متعلق 11 رضاکارانہ اور غیر پابند اصولوں کی توثیق کی جن کی 2021 میں دوبارہ توثیق کی گئی۔

تاہم، ان اصولوں سے پوری طرح فائدہ اٹھانے کے لیے ضروری ہے کہ حکومتیں یہ طے کریں کہ اہم بنیادی ڈھانچہ کس چیز کو کہا جائے گا، اس کی ذمہ داری کسی مجاز ادارے کو سونپی جائے، ان اداروں کی سائبر صلاحیتیں مضبوط کی جائیں اور سائبر حملوں کی اطلاعات اور باہمی تعاون کے واضح قواعد وضع کیے جائیں تاکہ حملوں اور ان کے پھیلاؤ کو موثر طریقے سے روکا جا سکے۔

اس ضمن میں حکومتیں ایک اور قدم یہ بھی اٹھا سکتی ہیں کہ وہ اعتماد سازی کے اقدامات میں اپنی شرکت بڑھائیں۔ اقوام متحدہ کی پوائنٹس آف کنٹیکٹ ڈائریکٹری اس کی نمایاں مثال ہے۔ یہ اقدام سائبر جرائم خصوصاً اہم بنیادی ڈھانچے پر حملوں کے حوالے سے محفوظ اور براہ راست رابطے کے ذرائع فراہم کرتا ہے تاکہ کشیدگی کم کی جا سکے، غلط فہمیوں کو دور کیا جا سکے اور معلومات و وسائل کے تبادلے کے ذریعے مشترکہ اقدامات کو موثر بنایا جا سکے۔

© UNODC/Laura Gil ایسے نظام اور معاشرے تشکیل دینے کی ضرورت محسوس کی جا رہی ہے جو سائبر حملہ ہونے کی صورت میں موثر طریقے سے اس پر قابو پا سکیں۔

معلوماتی و مواصلاتی تحفظ کا نظام

سائبر جرائم کے خلاف موثر تعاون کے لیے ضروری ہے کہ صنعت، سول سوسائٹی اور تعلیمی اداروں کو باقاعدہ شراکت دار سمجھا جائے۔

اس ضمن میں مختلف اقدامات پہلے ہی رہنمائی فراہم کر رہے ہیں، جن میں سائبر تحفظ سے متعلق ٹیکنالوجی معاہدہ، پیرس کال، انٹرنیٹ کے انتظام کا فورم اور عالمی اقتصادی فورم کا مرکز برائے سائبر تحفظ شامل ہیں۔

اسی طرح سائبر استحکام کے لیے اقوام متحدہ کی کانفرنس جیسے پلیٹ فارم بھی اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔

آئندہ مہینوں میں اقوام متحدہ کا ایک نیا عالمی نظام برائے معلومات و مواصلاتی ٹیکنالوجی بھی شروع کیا جائے گا جو حکومتوں کے لیے ایک مستقل پلیٹ فارم مہیا کرے گا تاکہ اس معاملے میں پیش رفت کو یقینی بنایا جا سکے، اعتماد سازی کے اقدامات کو مزید مضبوط کیا جائے اور سائبر جرائم سے نمٹنے کی صلاحیت بہتر بنانے کی کوششوں کو وسعت دی جا سکے۔

حقیقی طور سے دیکھا جائے تو سائبر استحکام ایسی ٹھوس، مشترکہ اور اجتماعی کوششوں کی بدولت ہی ممکن ہے۔ اسی طریقے سے ڈیجیٹل ڈھانچے کو محفوظ بنایا جا سکتا ہے جو آج ہماری روزمرہ زندگی اور انسانیت کے مستقبل میں اہم ترین کردار ادا کر رہا ہے۔